انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 79

انوار العلوم جلد ۲۲ ۷۹ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر حاصل کرنا ہے۔پھر فرمایا میاں! یہ تو دیکھو مجھے تم سے کتنا عشق ہے۔اگر میں ان معنوں سے جو بیان کرتا ہوں زیادہ معنے جانوں تو کیا تمہیں بتا نہ دوں ؟ اگر مجھے کوئی اور معنے معلوم ہوتے تو میں تمہیں ضرور بتا دیتا۔پس اگر میں نے تمہیں کوئی اور معنے نہیں بتائے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ مجھے صرف اتنے ہی معنے آتے ہیں۔پھر فرمایا میاں ! اتنا تو سوچو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے اللہ تعالیٰ کا بندہ صرف میں ہی ہوں یا تم بھی ہو؟ کیا یہ میرا ہی فرض ہے کہ اسلام پر جو اعتراض پڑتا ہے اُس کا جواب دوں یا تمہارا بھی فرض ہے کہ تم خود سوچو اور اسلام پر پڑنے والے تمام اعتراضات کا جواب دو؟ تم سوال نہ کیا کرو بلکہ خود سوچا کرو اور ان اعتراضات کے خود جوابات دیا کرو۔آپ نے مجھے جو کچھ پڑھایا میں اُس کی بھی قدر کرتا ہوں لیکن جو آپ نے مجھے نہیں پڑھایا وہ میرے لئے بہت زیادہ قیمتی ہے کیونکہ جونہی یہ آواز میرے کانوں میں پڑی کہ کیا صرف میرا ہی فرض ہے کہ اسلام پر پڑنے والے شبہات کا جواب دوں یا تمہارا بھی فرض ہے کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے صرف میں ہی اللہ کا بندہ ہوں یا تم بھی اللہ کے بندے ہو؟ اس آواز نے میرے اندر ایک آگ لگا دی اور میں نے سمجھا که گویا اسرافیل فرشتے نے صور پھونکا۔اس کے بعد میں نے پوچھنا بند کر دیا اور سوچنا شروع کر دیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے علم کے سمند ر سکھا دیئے۔اب اگر کوئی اسلام کا دشمن اسلام پر کتنے بھی اعتراض کرے میں انہیں خدا تعالیٰ کے فضل سے قرآن کریم سے ہی رڈ کرسکتا ہوں۔چونکہ بھیرہ آنے کا شوق مجھے مدت سے تھا اس لئے یہاں آکر میں خوش بھی ہوں کہ میری ایک دیرینہ خواہش پوری ہوئی۔مگر بھیرہ کی دیواروں میں داخل ہونے کے بعد میرے دل کے زخم دوبارہ ہرے ہو گئے۔بھیرے کی ہی ایک لڑکی امتہ الحی سے جو حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ المسیح الاوّل کی بیٹی تھیں ، میری شادی ہوئی۔ہم دونوں میں بہت محبت تھی۔بیوقوف لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید اسلام اور روحانیت کے یہ معنے ہیں کہ میاں کو بیوی سے محبت نہ ہو اور بیوی کو میاں سے محبت نہ ہولیکن جو لوگ اسلام اور