انوارالعلوم (جلد 22) — Page 70
انوار العلوم جلد ۲۲ ۷۰ تربیتی کورس کے اختتام پر احمدی نوجوانوں سے خطاب کو رپورٹ کی ہو اور اُس نے اُسے گرفتار کر لیا ہو اور ماں کو بطور گواہ پیش کیا ہوا ایسے موقع پر ماں گواہی دے دے گی لیکن اس لئے کہ وہ جانتی نہیں کہ وہ اس کا اپنا بیٹا ہے مجسٹریٹ کے سامنے اقرار کر لینے کے بعد کہ اس نے چوری کی ہے اور اس علم کے بعد اگر وہ انکار کر دے تو وہ سزا کی مستحق ہوگی اگر اسے یہ پتہ لگ جائے کہ چور اس کا اپنا بیٹا ہے تو وہ فوراً کہہ دے گی کہ چور یہ نہیں تھا میں نے جھوٹ بولا ہے۔وہ اپنے آپ کو قید میں ڈال دے گی لیکن اُس کے خلاف گواہی نہیں دے گی سوائے اس کے کہ وہ مؤ منہ ہو۔یہی حال اُن لوگوں کا ہوتا ہے جو بچے مذہب میں داخل ہوتے ہیں لیکن پھر دُور جا پڑتے ہیں۔اُن کے دلوں میں یہ خیال اور تصور تو ہوتا ہے کہ وہ بچے مذہب میں داخل ہیں لیکن وہ صرف ناموں سے محبت کرتے ہیں حقیقت کو پہچاننے کی طاقت اپنے اندر نہیں رکھتے۔اگر کسی وقت اُنہیں معلوم ہوگا کہ وہ عملی طور پر اُسی مذہب کی مخالفت کر رہے ہیں جس کی سچائی کے وہ زبان سے قائل ہیں تو وہ فوراً اپنے اندر تبدیلی پیدا کر لیں گے۔مثلاً آجکل مسلمان لفظ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے تو محبت کرتے ہیں لیکن آپ کی روحانی شکل سے نفرت کرتے ہیں لیکن اگر اُنہیں کسی وقت یہ پتہ لگ جائے کہ وہ شکل جس کو اب تک غیر کی شکل سمجھ رہے تھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل ہے تو وہ اپنے خیال کو فوراً بدل دیں گے اور مخالفت ایک ساعت میں بدل جائے گی۔صحابہ کو دیکھو ان میں سے بعض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید ترین دشمن تھے لیکن جب انہیں یہ سمجھ آ گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو آناً فاناً اُن کی نفرت محبت میں بدل گئی۔عکرمہ جو ابو جہل کا بیٹا تھا ہمیشہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتا رہا۔جب مکہ فتح ہوا تو بغض کی وجہ سے مکہ چھوڑ کر بھاگ گیا کیونکہ وہ آپ کی حکومت کے ماتحت رہنے کیلئے تیار نہیں تھا۔اُس کی بیوی دل سے مسلمان تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عکرمہ کے متعلق یہ احکام صادر فرمائے تھے کہ اگر وہ پکڑا جائے تو اُسے سزا دی جائے۔اُس کی بیوی نے جب یہ احکام سنے تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور عرض کیا يَا رَسُولَ اللہ ! میں دل سے مسلمان ہوں۔عکرمہؓ کو بعض غلط فہمیاں ہیں جن کی بناء