انوارالعلوم (جلد 22) — Page 47
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۷ مضمون نویسی اور تقریری مقابلوں کے بارہ میں ہدایات سے ایک ایک نمائندہ لے لیا جائے۔پھر اُنہیں اختیار دیا جائے کہ وہ اپنی میٹنگ کریں اور اُس موضوع پر جس پر اُن کے نمائندہ نے اجتماع کے موقع پر تقریر کرنی ہے خوب بحث کریں اور دلائل بیان کریں۔پھر جو نمائندہ منتخب ہو وہ اُن دلائل میں سے کچھ دلائل چن لے اور نوٹ لکھ لے۔یہاں تقریر زبانی ہو لیکن تقریر کرنے والے کو یہ اختیار دینا چاہئے کہ وہ اس کیلئے بعض نوٹ لکھ لے۔پھر ان لیکچراروں کو کم از کم بیس منٹ ملنے چاہئیں۔اس طرح دو گھنٹے میں چھ لیکچر ہو جائیں گے۔جہاں تک تحریری مضامین کا سوال ہے اس بات کی ضرورت نہیں کہ یہاں یہ کہا جائے کہ دوست اس امتحان میں شامل ہونے کیلئے اپنا نام لکھوا دیں بلکہ پرچے بنا کر باہر بھجوا دینے چاہئیں۔خدام ان پر چوں کی تیاری کریں اور جب یہاں آئیں تو وہ امتحان کیلئے اپنا نام لکھوا دیں۔یہاں سپر وائزروں کے سامنے بیٹھ کر وہ مضامین لکھیں اور ہر سال ایسا کریں۔جو گروپ قابل ہو جائیں اُن کی جگہ دوسرے گروپ لے لئے جائیں۔اس طرح قدم به قدم تمام جماعتوں کے سرکل مقرر کر کے مضامین لکھوا ؤ۔اگر آپ لوگوں نے مضمون نویسی کی مشق کرانی ہے تو بیشک امتحان میں شامل ہونے والے کتابیں بھی ساتھ لے آئیں۔انہیں یہ اختیار دیا جائے کہ وہ ضروری کتا بیں دیکھ سکیں لیکن کسی سے مشورہ نہ لیں۔بہر حال انہیں یہ موقع دینا چاہئے کہ وہ مختلف کتابوں سے استنباط کر کے مضامین لکھیں۔آخر ہم مضامین لکھتے ہیں تو کیا فرشتے ہمیں آ کر نوٹ لکھواتے ہیں؟ ہم بھی دوسری کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں اور ان سے مسائل اخذ کر کے مضامین لکھتے ہیں۔ہمارا یہ مقصد نہیں ہونا چاہئے کہ انہیں موجد بنائیں بلکہ ہمارا ان امتحانوں سے یہ مقصد ہونا چاہئے کہ ہمارے نوجوان علوم مروجہ کو استعمال کرنا زیادہ سے زیادہ جانتے ہوں جس طرح کتابوں کا امتحان ہوتا ہے ایک امتحان اس قسم کا بھی ہو لیکن ضروری ہے کہ ایک مضمون مقرر کر دیا جائے۔مثلاً وفات مسیح کا مضمون ہے۔ایک سال کیلئے یہ مضمون مقرر کر دیا جائے۔بے شک آپ بعض سوالات بھی دیدیں۔مثلاً کسی نے نئے رنگ میں کوئی اعتراض کیا ہے۔یا کوئی پرانا اعتراض زیادہ اہم ہو گیا ہے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان سوالات کو مد نظر رکھ کر مضمون