انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 46

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۶ مضمون نویسی اور تقریری مقابلوں کے بارہ میں ہدایات ہو جاتی ہے۔مثلاً آج ہی بعض مقررین نے کہا ہے کہ یہ بات تو واضح ہے لیکن یہ فقرہ وہاں کہا جاتا ہے جہاں تقریر کرنے والا کسی منطقی نکتہ کی طرف پہلے اشارہ کر دیتا ہے۔مثلاً ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر عقل اور سمجھ رکھی ہے۔پھر ہم کہتے ہیں یہ بات بالکل واضح ہے کہ جب ایک انسان کے سامنے کوئی غیر معمولی بات پیش کی جائے تو وہ اسے ماننے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔چونکہ ہم نے ایسی بات پیش کی ہے جس کو دنیا کے سب لوگ جانتے ہیں اور پھر یہ بات پیش کی کہ اگر انسان کے سامنے کوئی غیر معقول بات رکھی جائے تو وہ اسے مانے کیلئے تیار نہیں ہوتا تو یہ بات سج جائے گی۔لیکن اگر ہم کہیں گے کہ یہ بات واضح ہے کہ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ظہور ہونا چاہئے تھا تو یہ بات ہمارے لئے تو واضح ہو گی کہ دنیا کے حالات اس قسم کے ہیں کہ وہ تقاضا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی مامور مبعوث ہو لیکن ایک مخالف تو یہ بات نہیں مانتا۔پس ہر بات کہتے وقت یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ آیا سننے والا اسے سمجھ سکے گا یا نہیں۔اس کے بعد میں اس مجلس کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔میرے نزدیک تقریریں کرانے کا یہ طریق جو نکالا گیا ہے غلط ہے۔بعض تقریریں کرنے والوں نے ایسے مضامین منتخب کئے ہیں جو بہت ہی اہم ہیں لیکن وہ دومنٹ کے بعد چپ ہو گئے۔دو منٹ میں مضمون کی ماہیت کو بیان کرنا بھی مشکل ہے اس لئے یہ طریق غلط ہے۔پھر یہ کہنا کہ تقریر کیلئے نام لکھا دو یہ طریق بھی غلط ہے۔یہ علم کے مظاہرہ کا موقع ہے یہ اجلاس عام انجمنوں کا اجلاس نہیں۔یہ وہ اجلاس ہے جس میں یہ مظاہرہ کیا جاتا ہے کہ ہم نے نو جوانوں کو اتنی مشق کرائی ہے۔مثلاً جلسہ سالانہ کے موقع پر تقریر کے لئے بعض دفعہ بڑے بڑے عالموں کا بھی نام آ جاتا ہے لیکن میں وہ نام کاٹ دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ انہیں پہلے با ہر مشتق کرالو۔اسی طرح یہ خدام الاحمدیہ کا اسٹیج ہے یہاں یہ مظاہرہ کیا جاتا ہے کہ ہم نے اپنے خدام کو تقریر کرنے کی کتنی مشق کروائی ہے اور ان کے ذہنوں میں کتنی جلاء پیدا کر دی ہے۔پس ایسے موقع پر یہ کہنا کہ تقریروں کے لئے نام لکھوا دو غلط ہے۔کچھ مضامین پہلے چن لینے چاہئیں اور انہیں باہر بھجوا دینا چاہئے اور بعض ایسے سرکل بنا دینے چاہئیں جن میں