انوارالعلوم (جلد 22) — Page 45
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۵ مضمون نویسی اور تقریری مقابلوں کے بارہ میں ہدایات آواز زیادہ بلند نہ تھی اگر چہ آہستہ آہستہ زور پکڑ کر وہ مؤثر ہو جایا کرتی تھی لیکن وہ اس مقام پر نہیں پہنچتی تھی جہاں تقریر کرنے والا جوش کے ساتھ سامعین کو اپنے ساتھ بہالے جایا کرتا ہے۔یوں تقریر کے لحاظ سے آپ کی آواز میں بڑا اثر تھا اور مضمون سامعین کے ذہن نشین ہو جا تا تھا اور ان کے دل کی گہرائیوں میں اتر جا تا تھا لیکن پڑھنے میں یہ طریق کامیاب نہیں ہوتا۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل نے وہ مضمون تو پڑھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ کے پڑھنے کے طریق پر مطمئن نہ ہوئے۔حضرت خلیفہ امسیح الاول کے بعد مرزا یعقوب بیگ صاحب نے مضمون پڑھنا شروع کیا۔اُن کی آواز باریک تھی دوسرے وہ عربی سے ناواقف تھے اور مضمون میں چونکہ اکثر قرآنی آیات تھیں نتیجہ یہ ہوا کہ اُنہوں نے غلط پڑھنا شروع کر دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔یہ بھی موزوں نہیں۔اس کے بعد شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے پڑھنا شروع کیا۔اُنہوں نے یہ خیال کیا کہ پہلے دونوں کی آواز میں چونکہ بلندی اور گرج نہیں تھی اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کا طریق بیان پسند نہیں فرمایا چنانچہ انہوں نے بڑے زور کے ساتھ گرج کی سی آواز میں پڑھنا شروع کیا مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی آواز جلدی بیٹھ گئی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تشریف رکھیں۔غرض مضمون کو آہستگی سے اور ایسے رنگ میں پڑھنا چاہئے کہ سامعین پڑھنے والے کی آواز میں سموئے جائیں۔جب تک سامعین پڑھنے والے کی آواز میں سموئے نہیں جاتے اور جب تک ان کا پڑھنے والے کی آواز کے ساتھ اشتراک پیدا نہیں ہوتا اُس وقت تک تقریر میں زور پیدا کرنا اُن کو قریب کرنے کی بجائے دور کرنا ہے۔پھر تقریر کرنے والے کو اپنا مضمون اس طرز سے بیان کرنا چاہئے کہ اسے سارے مضمون کے سارے پہلو مد نظر ہوں۔بعض دفعہ تقریر کرنے والا اپنا مضمون ایسے طور سے بیان کرتا ہے کہ وہ خیال کرتا ہے کہ اس کا طریق بیان درست ہے لیکن جن شقوں کی وجہ سے وہ اسے واضح محسوس کرتا ہے وہ سامعین کو معلوم نہیں ہوتیں اس لئے اس کی تقریر بیکار