انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 547

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۴۷ سیر روحانی (۶) عظیم الشان تغیر یہ کتنا عظیم الشان تغیر ہے جو محد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہوا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلی دنیا دیکھو، پہلی تاریخیں پڑھو ، ہندوؤں کی تاریخیں پڑھو، عیسائیوں کی تاریخیں پڑھو، یہودیوں کی پڑھو وہ غلاظت کا ٹوکرا معلوم ہوتی ہیں۔اس کے مقابلہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کو دیکھو یہاں بڑا بزرگ تو الگ رہا جو چھوٹے سے چھوٹا بزرگ تھا وہ بھی پاکیزہ اور صاف ستھرا اور نہایا دھویا ہو انظر آتا ہے۔گندگی اور غلاظت کے ساتھ خدا نہیں ملتا اب ان معنوں کے لحاظ سے وَثِيَابَكَ فَطَهِّرُ وَالرُّجْزَ ا فَاهُجُرُ کے یہ معنے بنتے ہیں کہ اے ہمارے گورنر ! جو یہ پتہ لگتے ہی کہ ہم اس کو ایک اہم کام سپرد کرنے لگے ہیں وردی پہن کر گھوڑے کے پاس تیار کھڑا ہو گیا ہے کہ چھلانگ لگا کر سوار ہو جاؤں دائمی طور پر اپنے کام میں لگ جا اور دنیا کو ہوشیار کر اور پہلے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی اصلاح کر ، پھر باقی دنیا کی اصلاح کا فرض سرانجام دے اور ہر قسم کی صفائی دنیا میں قائم کر اور لوگوں کو بتا کہ گندگی اور غلاظت کے ساتھ خدا نہیں ملتا بلکہ انسان کا ذہن گند ہو جاتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ سے دُور ہو جاتا ہے۔جز کے دوسرے معنوں اب ہم اس آیت کو دوسرے معنوں کے لحاظ و و سے لیتے ہیں۔دوسرے معنے رجز کے عذاب کے لحاظ سے آیت کی تشریح کے تھے اس کے لحاظ سے آیت کے یہ معنے بن جائیں گے کہ تو عذاب کو دنیا سے مٹا دے۔ان معنوں کے رو سے مندرجہ ذیل مطالب اس آیت کے نکلتے ہیں۔تعذیب نفس کی ممانعت اول اسلام سے پہلے مختلف ادیان میں تعذیب نفس کو روحانیت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا مثلاً کہتے تھے کہ بیٹے کی قربانی خدا کے قریب کر دیتی ہے۔یہ سمجھا جاتا تھا کہ شادی نہ کرنا، رہبانیت اختیار کرنا اور اپنے نفس کا بیکار کر دینا یہ نہایت اعلیٰ درجہ کی چیز ہے۔ہتھیار کے ساتھ اپنے