انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 548

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۴۸ سیر روحانی (۶) آپ کو ہیجڑا بنا لینا یہ بڑی نیکی ہے۔اپنے آپ کو الٹا لٹکائے رکھنا یعنی سر نیچے اور ٹانگیں او پر کر لینا، یہ بڑی نیکی ہے۔ٹھنڈے موسم میں دریا میں بیٹھے رہنا یہ بڑی نیکی ہے، گرمی کے موسم میں دھوپ میں بیٹھ رہنا یہ بڑی نیکی ہے ، جسم پر کوڑے لگانا یہ بڑی نیکی ہے۔اچھی اور پاکیزہ چیزیں نہ کھانا یہ بڑی نیکی ہے۔پس فرماتا ہے ہم نے ان تمام باتوں کی تیرے ذریعہ سے اصلاح کر دی ہے اور ہم تجھے حکم دیتے ہیں کہ وہ تمام احکام جن کو دین کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، جن کو روحانیت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا ، جن میں انسان کے دل کو یا جسم کو یا دماغ کو عذاب دیا جا تا تھا وہ ساری کی ساری چیزیں منسوخ کی جاتی ہیں۔خدا سے ملنے کے لئے اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ کسی کا ناک کاٹا جائے یا کسی کو الٹا لٹکایا جائے۔خدا کے ملنے کے لئے روحانی ذرائع ہیں یہ غلط طریق تھے جو دنیا نے جاری کئے ہوئے تھے۔اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جا اور ان کو منسوخ کر اور دنیا کو بتا دے کہ یہ غلط طریق تھے جو اس نے اختیار کر لئے تھے۔عورتوں کو مُعَلَّقہ چھوڑنے اور اسی طرح عورتوں کو مُعَلَّقَہ چھوڑا جاتا تھا یہ بھی تہذیب تھی ، آگ کا عذاب دیا آگ کا عذاب دینے کی ممانعت جاتا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کسی کو آگ کا عذاب دینے کی اجازت نہیں یہ خدا کا حق ہے کہ وہ جہنم میں ڈالتا ہے تمہیں حق نہیں کہ ایسا کرو۔غلامی کی ممانعت اسی طرح دنیا میں غلامی کا رواج تھا انسان کی آزادی کو چھین لیا جاتا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ یہ عذاب بند کیا جاتا ہے اب کوئی غلامی نہیں۔اسے جانوروں کو دُکھ دینے کی ممانعت جانوروں کے منہ پر لوگ لینے لگاتے تھے اور اس طرح جانوروں کی مختلف قسمیں بناتے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح جانور کو تکلیف ہوتی ہے اگر تم نے نشان ہی لگانا ہو تو جانوروں کی پیٹھ پر لگاؤ تا کہ انہیں کم سے کم تکلیف ہو۔۴۲