انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 429

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۲۹ چشمہ ہدایت تعمیر دفتر لجنہ اماءاللہ یہ بات تو میں نے اپنی طرف سے کہی ہے جس بات کی انہوں نے مجھ سے خواہش کی ہے وہ یہ ہے کہ میں عورتوں میں تحریک کروں کہ لجنہ اماء اللہ کا دفتر بن گیا ہے وہ اس کے چندہ کی طرف زیادہ توجہ کریں۔اس میں تو میں سمجھتا ہوں کہ عورتوں نے پھر ہم پر بازی لے لی ہے۔مردوں کے دفتر ا بھی بنیادوں سے ہی نیچے پڑے ہوئے ہیں اور سال سال، دو دو سال سے رقمیں بھی منظور ہوچکی ہیں ، سامان بھی آچکے ہیں اور افسر بھی مقرر ہو چکے ہیں اور انجینئر بھی ہیں لیکن وہ ابھی تک ابتدائی مراحل سے بھی نہیں گزر سکے مگر عورتوں کا دفتر خدا تعالیٰ کے فضل سے مکمل ہو چکا ہے۔صرف پردہ بنانے میں افسر نے کسی قدر سستی کی ہے۔اگر وہ پردہ بنا ہو ا ہوتا تو اُن کا سارا کام اس جگہ پر بڑی اچھی طرح چل سکتا تھا۔پھر یہ بھی ہے کہ عورت اپنی نظر سے بہت فائدہ اُٹھاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اُس کے اندر کچھ ایسی صفت رکھی ہے کہ جو چیز دکھاوے والی ہو اُس پر وہ فریفتہ ہوتی ہے۔سونا ہے، زیور ہے، اس زیور کے اُوپر وہ جان دیتی ہے۔اُسے آپ نظر نہیں آ رہا ہوتا کہ میرے گلے میں ہار کیسا پڑا ہوا ہے اُس کا سارا لطف تو یہ ہوتا ہے کہ لوگ دیکھ رہے ہیں میرے گلے کا ہار۔تو میں نے لجنہ سے کہا تھا کہ میری کسی تحریک کی ضرورت ہی نہیں۔جس وقت مستورات اپنا دفتر بنا ہو ا دیکھیں گی بس کہیں گی سُبحَانَ الله فوراً لو چندہ اور اس کو مکمل کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بارہا میں نے یہ لطیفہ سنا ہوا ہے کہ آپ فرماتے تھے کوئی عورت تھی اسی طرح کی اُسے عادت تھی مگر تھی وہ غریب۔اُس نے ایک اچھی سی انگوٹھی بڑے شوق سے بنوائی اور خیال کیا کہ عورتیں اس کی تعریف کریں گی اور کہیں گی۔بی بی ! تم نے یہ کہاں سے بنوائی ہے؟ کتنی قیمت میں بنی ہے؟ نمونہ کیسا اچھا ہے ! ہم تو چاہتی ہیں ایسی انگوٹھی ہم بھی بنوائیں مگر اتفاق کی بات ہے لوگوں کی اُس پر نظر نہ پڑی اور اُنہوں نے اُس سے کچھ پوچھا نہیں۔آخر اس نے باتیں کرنی شروع کر دیں کہ فلاں بات یوں ہے ، فلاں بات یوں ہے اور بات کے ساتھ ساتھ انگوٹھی بھی سامنے کر دیتی لیکن پھر بھی کسی نے نہ پوچھا۔آخر تنگ آ کر اُس نے اپنے گھر کو آگ لگا دی۔