انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 387

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۸۷ خدام ہر جگہ مجالس قائم کریں اور چندہ کو منظم کریں افسوسناک ہے کہ مجلس عاملہ نے کوئی کام نہیں کیا وہاں مجھے یہ دیکھ کر خوشی بھی ہوئی ہے کہ ہماری تنظیم میں ترقی ہوئی ہے۔ایک تو ۲۹ نئی مجالس قائم ہوئی ہیں۔اگر چہ یہ تعداد تسلی بخش نہیں لیکن یہ ضرور ہے کہ ہمارا قدم پیچھے نہیں ہٹا بلکہ کچھ آگے ہی بڑھا ہے مگر یہ کہ جتنا قدم آگے بڑھنا چاہئے تھا اتنا نہیں بڑھا۔دوسری خوشی کی بات یہ ہے کہ ہما را چندہ منتظم ہو رہا ہے۔پچھلے سال کے چار ہزار روپیہ چندہ کے مقابلہ میں اس سال کا چندہ آٹھ ہزار روپیہ سے کچھ زائد ہے اور یہ چیز بتاتی ہے کہ مجالس اپنے فرائض کو سمجھ رہی ہیں۔اگر ہر جگہ مجالس قائم ہو جائیں اور چندہ منظم ہو جائے تو چالیس پچاس ہزار روپیہ چندہ اکٹھا ہونا کوئی مشکل امر نہیں۔ابھی ہم نے مرکز بنانا ہے۔لجنہ اماء اللہ اپنا مرکز بنا چکی ہے۔لنگر کے سامنے شمال کی طرف یہ عمارت بنی ہے خدام اسے دیکھ لیں۔پچھلے سال کسی نے کہا تھا کہ عورتیں آخر ہم سے ہی چندہ لیتی ہیں اور میں نے کہا تھا کہ عورتیں پھر بھی تم سے زیادہ ہمت والی ہیں کہ تمہاری جیب سے لے کر چندہ دے دیتی ہیں لیکن تم خود چندہ نہیں دے سکتے۔دیکھواُنہوں نے کارکنات کے لئے الگ مکانات بھی بنالئے ہیں۔میں جب وہاں سے گزرتا ہوں تو سمجھتا ہوں کہ ان مکانات میں رہنے سے اُنہیں زیادہ آرام مل سکتا ہے لیکن تم نے یہ کام ابھی کرنا ہے۔میں نے خدام کو ۱۲ کنال زمین اس لئے دی ہے کہ وہ اس میں اپنا مرکزی دفتر تعمیر کریں۔پس اپنے چندہ کو بڑھاؤ اور ہر جگہ خدام الاحمدیہ کی مجالس قائم کرو۔اگر سب جگہ مجالس قائم ہو جائیں اور ہما را چندہ منتظم ہو جائے تو میں سمجھتا ہوں یہ کام کچھ مشکل نہیں۔پندرہ ہیں ہزار روپیہ قرض بھی لیا جا سکتا ہے جو اگلے سال آسانی سے اُتر سکتا ہے۔“ الفضل ربوہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۶۲ء)