انوارالعلوم (جلد 22) — Page 345
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۴۵ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلو چاہتی ہیں انہیں یا د رکھنا چاہئے کہ اسلام نے خدا تعالیٰ کی محبت پر بھی زور دیا ہے پس اُنہیں دنیوی کاموں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی محبت کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے بلکہ ہمیشہ اس کی محبت اپنے دلوں میں زیادہ سے زیادہ پیدا کرتے چلے جانا چاہئے۔اور چونکہ دونوں قسم کی لڑکیاں در حقیقت ایک ہی مقصد اپنے سامنے رکھتی ہیں اس لئے جو اختلاف تمہیں اپنے اندر نظر آسکتا تھا وہ نہ رہا اور تم سب کا ایک ہی مقصد اور ایک ہی مدعا ہو گیا۔پس یہ مقصد ہے جو تمہارے سامنے ہوگا اور اس مقصد کے لئے تمہیں دینی روح بھی اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے اور بنی نوع انسان کی خدمت کا جذ بہ بھی اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے تا کہ وہ مقصد پورا ہو جس کے لئے تم اس کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آئی ہو۔دوسرے کالجوں میں پڑھنے والی لڑکیاں ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو بھلا کر ڈ نیوی کاموں میں ہی منہمک ہو جائیں مگر چونکہ یہ کالج احمد یہ کالج ہے اس لئے تمہارا فرض ہے کہ تم دونوں دامنوں کو مضبوطی سے پکڑے رہو۔اگر ایک دامن بھی تمہارے ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے تو تم اُس مقصد کو پورا نہیں کر سکتیں جو تمہارے سامنے رکھا گیا ہے اور جس کے پورا کرنے کا تم نے اقرار کیا ہے۔پس ان ہدایات کے ساتھ میں احمد یہ زنانہ کالج کے افتتاح کا اعلان کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ جو اس کالج میں پڑھانے والی ہوں گی وہ بھی اس بات کو مدنظر رکھ کر پڑھائیں گی کہ طالبات کے اندر ایسی آگ پیدا کی جائے کہ ان کو پارہ کی طرح ہر وقت بے قرار اور مضطرب رکھے۔جس طرح پارہ ایک جگہ پر نہیں ٹکتا بلکہ وہ ہر آن اپنے اندر ایک اضطرابی کیفیت رکھتا ہے اسی طرح تمہارے اندر وہ سیماب کی طرح تڑپنے والا دل ہونا چاہئے جو اُس وقت تک تمہیں چین نہ لینے دے جب تک تم احمدیت اور اسلام کو اور احمدیت اور اسلام کی حقیقی روح کو دُنیا میں قائم نہ کر دو۔اسی طرح پروفیسروں کے اندر بھی یہ جذ بہ ہونا چاہئے کہ وہ صحیح طور پر تعلیم دیں، اخلاق فاضلہ سکھائیں اور سچائی کی اہمیت تم پر روشن کریں۔تمہیں بُرا تو لگے گا مگر واقعہ یہی ہے کہ عورت سچ بہت کم بولتی ہے اس کے نزدیک اپنے خاوند کو خوش کرنے کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے اور سچائی کی کم۔جب اسے پتہ لگتا ہے