انوارالعلوم (جلد 22) — Page 242
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۴۲ سیر روحانی (۵) تو ہر ایک کو برابر کی باری دو، اسلام کہتا ہے کہ جتنا خرچ تم ایک بیوی کو دو اتنا ہی خرچ دوسری بیوی کو دو، اسلام کہتا ہے کہ جس طرح تم ایک بیوی کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہو اُسی طرح تم دوسری بیوی کی ضرورتوں کو بھی پورا کرو۔ان احکام کی موجودگی میں اگر کوئی شخص دوشادیاں کرتا ہے یا چار کرتا ہے تو آخر وہ کیوں کرتا ہے؟ بڑی وجہ اس کی یہی سمجھی جاسکتی ہے کہ اسے اپنی پہلی بیوی سے محبت نہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر اسے اپنی پہلی بیوی سے محبت نہیں تو کتنا جبر ہے جو شریعت اس پر کرتی ہے۔وہ چوبیس گھنٹے اپنی اس بیوی کے پاس گزارتا ہے جس سے اُسے محبت ہے تو شریعت کہتی ہے اُٹھاؤ اپنا بستر اور جاؤ دوسری بیوی کے پاس اور اس کے پاس بھی اسی طرح چوبیس گھنٹے گزارو۔وہ اپنی نئی بیوی کے لئے جس سے اسے محبت ہوتی ہے کوئی زیور یا کپڑا تیار کر کے لاتا ہے تو شریعت کہتی ہے اب جاؤ اور اسی قسم کا کپڑا اور اسی قسم کا زیور اپنی دوسری بیوی کو دے آؤ۔غرض قدم قدم پر شریعت اس کے جذبات پر ایسا جبر کرتی ہے کہ اس کے بعد یہ خیال بھی نہیں کیا جاسکتا کہ دوسری شادی کرنے والا عیاشی کا ارتکاب کرتا ہے۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی ایک بیوی جنہیں ہم بچپن میں مولویانی کہا کرتے تھے وہ ایک دفعہ ہمارے ہاں آئیں۔میں اُن دنوں شدید بیمار تھا اور مجھ سے اُٹھا بھی نہیں جاتا تھا ، پھر بھی میں سہارا لے کر دوسری بیوی کے گھر گیا۔وہ مجھے دیکھ کر کہنے لگیں یہ کیسی قابلِ رحم حالت ہے کہ اُٹھا جاتا نہیں مگر دوسری بیوی کے گھر جارہے ہیں۔اب بتاؤ اس میں عیاشی کی کونسی بات ہے، عیاشی تو تب ہو جب وہ صرف ایک بیوی سے تعلق رکھے اور دوسری کو نظر انداز کر دے۔میری یہ بات سنکر وہ کہنے لگے کہ آپ کی اور بات ہے۔میں نے کہا اگر میرے جیسا بن جانے سے یہ بات قابلِ اعتراض نہیں رہتی تو آپ بھی اچھے آدمی بن جائیں بُرے کیوں بنے ہوئے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر میں نے انہیں کہا جب ہم ایک سے زیادہ شادیاں کرتے ہیں تو اس کی وجوہات ہوتی ہیں۔کی شادیوں میں مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی شادیاں