انوارالعلوم (جلد 22) — Page 243
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۴۳ سیر روحانی (۵) کیں مگر اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ آپ کے سپر د تمام عورتوں کی تعلیم و تربیت کا کام تھا اور یہ اتنا بڑا کام تھا کہ آپ اکیلے اسے سنبھال نہیں سکتے تھے اس لئے ضروری تھا کہ آپ زیادہ شادیاں کرتے تا زیادہ سے زیادہ تعداد میں ایسی عورتیں تیار ہو سکتیں جو اسلام میں داخل ہونے والی مستورات کی نگرانی کرتیں اور ان کی تعلیم و تربیت کا کام سرانجام دیتیں۔میں بھی ایک قوم کا لیڈر ہوں میرے پاس سینکڑوں عورتیں آتی ہیں اور وہ اپنی مصیبتیں اور مشکلات بیان کرتی ہیں ، ان کی ضرورتوں کو پورا کرنا ، ان کی تعلیم کا انتظام کرنا اور ان کی تنظیم کو مکمل کرنا یہ ایک بہت بڑا کام ہے جو کوئی غیر عورت نہیں کر سکتی۔یہ کام اسی کی صورت میں ہو سکتا ہے کہ میں اپنی بیویوں کو تعلیم دوں اور وہ دوسری عورتوں کو تعلیم دیں اور ان کی تنظیم کا کام سرانجام دیں۔اس پر انہیں خاموش ہونا پڑا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بے مثال نمونہ غرض اسلام کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے ہر ضرورت کے متعلق احکام نازل کئے ہیں اگر اسلام نے اس قسم کے احکام نہ دیئے ہوتے تو ہمیں دشمن کے سامنے شرمندہ ہونا پڑتا مگر اب ہمارا سر اونچا رہتا ہے اور دشمن کو شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ آپ جب بیمار ہوئے تو باوجو د سخت کمزوری کے ایک ہاتھ علی رضی اللہ عنہ کے کندھے پر اور دوسرا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے کندھے پر رکھ کر ایک گھر سے دوسرے گھر میں جاتے اور بعض دفعہ تو ایسی صورت ہوتی تھی کہ آپ کے پاؤں شدت کمزوری کی وجہ سے زمین کے ساتھ گھسٹتے چلے جاتے تھے۔بیویوں نے جب یہ حالت دیکھی تو اُن سب نے مشورہ کیا کہ ایسی حالت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گھر سے دوسرے گھر میں جانا مناسب نہیں۔آپ کو کسی ایک ہی بیوی کے گھر میں ٹھہر نا چاہئے۔چنانچہ سب - متفقہ طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں درخواست کی کہ يَا رَسُولَ الله ! جب تک آپ اچھے نہیں ہو جاتے آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ٹھہریں وہ کی آپ کی سب سے زیادہ خدمت کر سکتی ہیں چنانچہ آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر