انوارالعلوم (جلد 22) — Page 232
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۳۲ سیر روحانی (۵) عقل سے خواہ نقل سے ، خواہ روایت سے خواہ درایت سے، خواہ چھوٹوں کے لئے خواہ بڑوں کے لئے ، خواہ مردوں کے لئے ، خواہ عورتوں کے لئے ، ان تمام بہترین باتوں کو اس قانون میں جمع کر دیا گیا ہے اور اب قیامت تک یہ قانون منسوخ نہیں ہوسکتا۔دُنیوی حکومتیں بعض دفعہ بڑی سوچ بچار کے بعد قانون بناتی ہیں مگر تھوڑے عرصہ کے بعد ہی انہیں اپنا قانون اپنے ہاتھوں سے منسوخ کرنا پڑتا ہے۔امریکہ نے بڑا زور لگایا کہ وہ کسی کی طرح شراب کے استعمال کو روک دے اور اُس نے اس پر قانونی پابندیاں بھی لگائیں مگر تھوڑے عرصہ کے بعد ہی امریکہ کو پھر شراب نوشی کی اجازت دینی پڑی اور شراب کی ممانعت کا قانون اسے منسوخ کرنا پڑا۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم جس قانون کے نفاذ کا اعلان کر رہے ہیں وہ اَحْسَنَ الحَدِيث پر مشتمل ہے ہر بہتر سے بہتر بات اس میں موجود ہے اور وہ انتہائی طور پر پاک اور بے لوث قانون ہے جس میں بنی نوع انسان کی تمام ضرورتوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔وہ ایسا قانون نہیں جو آج سے سو یا ہزار سال کے بعد منسوخ ہو سکے یا جس میں رد و بدل کی گنجائش نکل سکے۔ایک مکمل قانون اس کے بعد وہ اور زیادہ تشریح کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ قانون کیا ہے؟ فرماتا ہے کتابا وہ قانون ایک مکمل کتاب ہے۔جب بادشاہ نے دتی میں اعلان کے لئے دربار منعقد کیا تو اس نے تعزیرات ہند کا اعلان نہیں کیا ، اس نے اپنے تمام قوانین کو پیش نہیں کیا ، بلکہ صرف تقسیم بنگال کے منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔مگر قرآن کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ اعلان فرماتا ہے کہ ہم تمہارے سامنے ایک ٹکڑا پیش نہیں کرتے بلکہ کامل شریعت پیش کرتے ہیں۔ایک ٹکڑا بعض دفعہ انسان بھی اچھے سے اچھا بنا سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ہزار یا دو ہزار سال تک قائم رہے۔سوال سارے قانون کا ہے کہ وہ شروع سے لیکر آخر تک مکمل ہو اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہ ہو سکتی ہو۔یہ کمال کسی اور کلام کو حاصل نہیں۔پس فرماتا ہے کہ ہم جس قانون کو پیش کرتے ہیں :-