انوارالعلوم (جلد 22) — Page 233
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۳۳ سیر روحانی (۵) اوّل وه اَحْسَنَ الْحَدِيث ہے یعنی اس میں بہتر سے بہتر اور پختہ سے پختہ باتیں بیان کی گئی ہیں اور وہ ایک خوبصورت اور بے عیب قانون ہے۔دوم وہ کوئی ایک ٹکڑا نہیں بلکہ تمام قسم کے قانونوں پر حاوی ہے۔انگلستان میں چند بہائی عورتوں سے گفتگو میں جب انگلستان گیا تو وہاں ایک دن کچھ بہائی عورتیں مجھ سے ملنے کے لئے آئیں۔بہائی لوگ بہاء اللہ کو خدا سمجھتے ہیں اور قرآن کریم کو منسوخ قرار دیتے ہیں مگر مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ وہ ہماری دشمنی کی وجہ سے بہائیوں کو تو اچھا سمجھتے ہیں اور ہمارے سلسلہ کے خلاف شور مچاتے رہتے ہیں۔کراچی کے بعض اخبارات میں صفحوں کے صفحے بہاء اللہ کی تعریف میں شائع کئے جاتے ہیں حالانکہ وہ خدائی کا دعویدار تھا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اُس کا یہ عقیدہ تھا کہ آپ کی حکومت ختم ہو چکی ہے اور اب نئی شریعت کی دنیا کو ضرورت ہے۔بہر حال وہ عورتیں مجھ سے ملنے کے لئے آئیں ان عورتوں میں سے ایک تو شنگھائی بنک کے مینیجنگ ڈائریکٹر کی بیوی تھی دوسری امریکہ کی رہنے والے تھی اور تیسری ایک احمدی بیرسٹر کی بیوی تھی جو ایرانی اور بہائی تھی۔ان کے ساتھ عبداللہ کو حکم تھے جو انگلستان کے سب سے پہلے نو مسلم تھے اور جنہیں لڑکی نے شیخ الاسلام کا خطاب دیا تھا۔ان عورتوں نے آتے ہی مجھ سے سوال کیا کہ آپ بہاء اللہ کو کیوں نہیں مانتے؟ میں نے کہا اس لئے نہیں مانتا کہ میں قرآن کریم کو مانتا ہوں۔وہ کہنے لگیں آپ قرآن کو کیوں مانتے ہیں کیا یہ کتاب منسوخ نہیں ہو سکتی؟ میں نے کہا یہ تو بحث ہی نہیں کہ ایسا ہو سکتا ہے یا نہیں کئی چیزیں ہو سکتی ہیں مگر ہوتی نہیں۔میں نے کہا تم مرسکتی ہو یا نہیں ؟ اگر مر سکتی ہو تو کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ تم مر چکی ہو؟ تم نے یقیناً ایک دن مرنا ہے مگر اس وقت یہ نہیں کہا جا سکتا کہ تم مر چکی ہو۔پس یہ سوال جانے دو کہ کوئی کتاب منسوخ ہو سکتی ہے یا نہیں سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت قرآن کریم منسوخ ہے یا نہیں ؟ تم مجھے کوئی ایک بات بتا دو جو قابل عمل ہو مگر قرآن کریم میں نہ ہو یا بہاء اللہ کی کوئی ایک بات ہی مجھے بتا دو جو سب سے اچھی ہو اور وہ قرآن کریم میں بیان نہ ہوئی ہو۔