انوارالعلوم (جلد 22) — Page 194
انوار العلوم جلد ۲۲ ہونے فرمایا کہ ) ۱۹۴ متفرق امور میں نے آخری دو تین سالوں میں دوستوں کو ہدایات دی تھیں کہ نعرہ نہ لگایا جائے لیکن اب چونکہ دشمن کہتا ہے کہ ہم نے احمدیوں کو مار ڈالا ہے۔اس لئے اب وہ وقت گزر گیا ہے اب نعرہ لگانے کی ممانعت نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب صلح حدیبیہ کے اگلے سال حج کے لئے مکہ تشریف لے گئے تو معاہدہ یہ تھا کہ مکہ والے اس سال جبل ابوالقیس پر چلے جائیں گے اور ملکہ کی گلیاں خالی کر دیں گے تا کہ مسلمان اطمینان سے خانہ کعبہ کا طواف کر سکیں۔اتفاق کی بات ہے کہ اس سال مدینہ میں ملیریا کا زور تھا اور اس کی وجہ سے صحابہ سے چلا نہیں جا تا تھا ، ان کے پاؤں لڑکھڑاتے تھے اور وہ گبڑے ہو کر چلتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو دیکھا کہ جب وہ جبل ابوالقیس کے سامنے آتے تو اکٹڑ کر چلتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے دریافت کیا کہ جب تم اس پہاڑی کے سامنے آتے ہو تو اتنا اکڑ کر کیوں چلتے ہو؟ اس پر صحابی نے عرض کیا کہ یا رَسُولُ اللہ ! میں اُنہیں بتانا چاہتا ہوں کہ اگر چہ ہمیں بخار ہے لیکن تمہارا مقابلہ کرنے کے لئے ہم میں اب بھی طاقت پائی جاتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تکبر خدا تعالیٰ کو بہت ہی نا پسند ہے لیکن اس شخص کی حرکت خدا تعالیٰ کو عرش پر بھی پسند آئی ہے۔اسی طرح میں کہتا ہوں کہ دشمن کو اپنی زندگی جتانے کے لئے نعرہ لگانا جائز ہے۔اب جو نعرہ لگا تھا وہ تو کچھ اچھا لگا تھا لیکن اس سے پہلے کا نعرہ بخار والوں کا نعرہ تھا حالانکہ جن کی نقل میں یہ نعرہ لگایا گیا ہے وہ بخار میں بھی اکڑ کر چلتے تھے دشمن کہتا ہے کہ ہم نے تمہیں مار دیا ہے لیکن تم نے انہیں بتانا ہے کہ ہم مرنے والے نہیں۔اب میں میمورنڈم کے وہ پیرا گراف پڑھ کر سُنا تا ہوں جن کی وجہ سے احمدیوں پر اعتراض کیا گیا ہے۔ہمارے میمورنڈم میں جماعت احمدیہ کے انٹر نیشنل ہونے کا ذکر صفحہ پر آتا ہے اور اس کا ہیڈ نگ نمبر (۱) ہے۔اس پیرا کا مضمون یہ ہے کہ:۔لکھ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں جگہ پر ہمارے گردوارے واقع ہیں