انوارالعلوم (جلد 22) — Page 193
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۹۳ انگریزوں کو بدنام کر رہے ہیں۔اُس وقت مسلم لیگ احراریوں کی شرارت کو بھانپ گئی اور اس نے دھوکا نہیں کھایا۔اب انگریزوں کا اس فیصلہ کو درست ثابت کرنے کے سوا کوئی وجہ جواز نہیں چنانچہ جب کوئی انگریز ہمارے پاس آتا ہے وہ شرمندہ ہو جاتا ہے۔ان لوگوں کے ہندوستان سے تعلقات میں ہندوستان کو پاکستان کے مقابلہ میں جو زک پہنچی اس کا اثر زائل کرنے کے لیے یہ شرارتیں کروائی جارہی ہیں اور یہ پرو پیگنڈا کروایا جا رہا ہے کہ ضلع گورداسپور کا پاکستان سے الگ ہونا احمدیوں کی وجہ سے تھا حالانکہ ہم نے میمورنڈم صرف اس لئے پیش کیا تھا کہ احراری چونکہ ہمیں مسلمانوں سے خارج کہتے ہیں اس لئے تم ہمیں مسلم سمجھو یا غیر مسلم ہم بہر حال پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور ہم مسلم لیگ کے ساتھ ہیں۔تیسرا آزاد نے اپنے۲ جون کے اخبار میں حکومت کے اعلان پر اعتراض کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ مرزائی وکیل کو باؤنڈری کمیشن کے سامنے یہ کہنے کا کیا حق تھا کہ قادیانی بین الا قوامی یونٹ بن چکا ہے اور اسے حق ہے کہ ہندوستان میں رہے یا پاکستان میں۔یہ فقرہ جس خلاصہ سے لیا گیا ہے وہ بے شک الفضل میں چھپا ہے لیکن یہ خلاصہ کسی اور اخبار یا ر پورٹر نے لکھا ہے جو قطعاً غلط ہے۔یہ ہمارے میمورنڈم میں ہرگز موجود نہیں بلکہ اس عبارت کا میمورنڈم سے دُور کا بھی تعلق نہیں۔اگر یہ عبارت ہمارے میمورنڈم میں احرار دکھا دیں تو میں اُنہیں دو ہزار روپیہ انعام دوں گا اور اس کا فیصلہ میں باؤنڈری کمیشن کے ایک ہز ایکسی لینسی شیخ دین محمد صاحب گورنر سندھ پر چھوڑتا ہوں جو احمدی نہیں اگر وہ ہما را میمورنڈم پڑھ کر کہ دیں کہ ہمارے میمورنڈم میں یہ فقرہ موجود ہے تو میں پلا چون چراں دو ہزار کا چیک میمورنڈم کے ساتھ ہزا ایکسی لینسی کو بھجوا دوں گا۔اگر یہ فقرہ ہمارے میمورنڈم میں ہو یا اس کے ہم معنی کوئی فقرہ ہمارے میمورنڈم میں ہو تو وہ ہمارے خلاف فیصلہ کرا کے اور وہ فقرہ نقل کر کے ہمیں بھجوا دیں اور دو ہزار کا چیک احرار کو دے دیں۔اس موقع پر نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے گئے تو حضور نے نعروں کے متعلق ہدایات دیتے