انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 184

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۸۴ متفرق امور سے کیوں چھن گیا ؟‘ 1 سیہ وہ الزامات ہیں جو عام مسلمانوں کو بھڑکانے کیلئے احمدیوں پر لگائے گئے اور یہ صاف بات ہے کہ اگر عوام کو یہ پتہ لگ جائے کہ احمدیوں نے ضلع گورداسپور کو جُدا کرنے کیلئے کوشش کی اور جو خون ریزی ہوئی ہے وہ محض احمدیوں کی وجہ سے ہوئی ہے تو لازماً ان کے اندر جوش پیدا ہو گا۔چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے متعلق جب یہ بات کہی گئی کہ انہوں نے گورداسپور کو پاکستان سے علیحدہ کرانے کی کوشش کی تو چونکہ وہ حکومت کے رُکن ہیں اس لئے حکومت مجبور ہوئی کہ وہ اسکی تردید کرے چنانچہ حکومت نے اعلان شائع کیا کہ: یہ کہا گیا ہے کہ جولائی ۱۹۴۹ء میں باؤنڈری کمیشن کے رُو برو آنریبل چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب (موجودہ وزیر خارجه پاکستان) نے مسلم لیگ کی طرف سے کیس پیش کرتے ہوئے اس بات پر اصرار کیا کہ انہیں جماعت احمدیہ کی طرف سے بھی بحث کرنے کی اجازت دی جائے۔اور پھر بحث کے دوران میں انہوں نے کمیشن سے کہا کہ قادیان کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے دوران بحث میں اس بات پر زور دیا کہ احمدیہ جماعت عام مسلمانوں سے ایک علیحدہ امتیازی حیثیت کی مالک ہے پھر ان مفروضہ بیانات کی بناء پر یہ بحث کی جاتی ہے کہ آخر یہل چوہدری صاحب کی اس بحث نے کہ جماعت احمد یہ ایک علیحدہ فرقہ ہے گورداسپور کے مسلمانوں کی عام آبادی کے تناسب کو کم کر دیا اور کمیشن نے اس جماعت کی علیحدہ حیثیت کی وجہ سے گورداسپور کے مسلم اکثریت والے ضلع کو مسلم اقلیت کا ضلع قرار دے کر پاکستان کی حدود سے نکال دیا۔ایوارڈ کی رُو سے اسے پاکستان میں شامل ہونا چاہئے تھا۔حکومت کو یہ اعتراضات سُن کر سخت تعجب اور حیرت ہوئی ہے