انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 183

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۸۳ متفرق امور باؤنڈری کمیشن کے سامنے اپنی جماعت کی طرف سے وکالت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ضلع گورداسپور جو اُس وقت تک ۳ / مارچ ۱۹۴۷ء کی ابتدائی سکیم کے مطابق پاکستان کا حصہ تھا ضرور اس سے علیحدہ کر دیا جائے اور قادیانیوں کی ایک علیحدہ اور آزاد ریاست بنا دی جائے۔اس نے اپنے دعوی کی بنیاد اس بات پر رکھی تھی کہ چونکہ قادیانی مسلمانوں کا حصہ نہیں ہیں اس لئے ان کو علیحد ہ وحدت تسلیم کیا جائے، ۵ ظاہر ہے کہ اس چیز کو مسلمانوں کے سامنے پیش کرنے کے معنی ہی یہ ہیں کہ جن لوگوں کو واقعات کا صحیح علم نہیں وہ کہیں گے آخر مولوی بالکل جھوٹ تو نہیں بولتے کچھ نہ کچھ تو اس نے ضرور کہا ہوگا۔مگر بعد میں انہیں پتہ لگا کہ یہ بات غلط ثابت نہیں ہو سکتی اس پر وو انہوں نے دوسری طرف رُخ بدلا اور کہا: جب تین مارچ ۱۹۴۷ء کے بیان میں ضلع گورداسپور کے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ ہو چکا تھا اور جب وہ مسلم اکثریت کا ضلع تسلیم کر لیا گیا تھا اور جب قادیان بھی اس ضلع میں شامل تھا اور اسی طرح قادیان کو پاکستان میں شامل ہونا تھا تو پھر آپ کو کیا ضروت محسوس ہوئی تھی کہ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت سے علیحد اپنا محضر پیش کرتے اور آپ کے اس جواب کے کیا معنے کہ ہم نے محضر اس لئے پیش کیا تھا کہ قادیان پاکستان میں شامل ہو جائے جبکہ اس کا پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ ایک عرصہ پہلے ہی ہو چکا تھا اور جب اس فیصلہ پر ہندوستان کو بھی اعتراض نہ تھا۔ہم الفضل اور ان کے وکیل شیخ بشیر احمد کو چیلنج کرتے ہیں کہ اس محضر کو جو آپ نے مسلمانوں سے جُدا جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کیا تھا من وعن شائع کرو۔تا کہ ملت اسلامیہ کو معلوم ہو سکے کہ تم نے ہم سے جُدا کیا بات چیت کی تھی اور ۳/ مارچ کے واضح بیان کے بعد گورداسپور ہم