انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 167

انوار العلوم جلد ۲۲ 172 متفرق امور اسلامی حکومت میں رہتے ہوئے اتنی جرات ہو سکتی ہے حالانکہ یہ ویسی ہی بات ہے کہ کھانا تو تم منہ سے کھاتے ہو تمہاری داڑھی کیوں ہلتی ہے۔گویا ہم پر جو چاہے اعتراض کرے اور جتنے اعتراض چاہے کرے ہمیں جواب دینے کی بھی اجازت نہیں۔ہمارے مخالف جو چاہیں ہمارے خلاف کہتے پھریں لیکن چونکہ پاکستان کی حکومت اسلامی حکومت ہے اس لئے ہمیں یہ حق حاصل نہیں کہ ہم اتنا بھی کہہ سکیں کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو یہ غلط کہہ رہے ہو۔گویا احمدی یہ سمجھیں کہ جو گالیاں اُنہیں دی جا رہی ہیں وہ گالیاں نہیں بلکہ اُن کی عزت افزائی ہو رہی ہے۔ایک جگہ کے متعلق مجھے رپورٹ ملی کہ ایک پیرا اپنے مریدوں کو اکٹھا کر کے انہیں کہہ رہا ہے کہ تم بندوق چلانے کی مشق کر لو اس کے بعد ہم ربوہ پر حملہ کریں گے اور اُسے تباہ کر دیں گے۔ڈپٹی کمشنر کے پاس جب اُس کی رپورٹ کی گئی تو اُس نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ وہ شخص پاگل ہے حالانکہ یہ رپورٹ ایسی نہیں تھی کہ کہنے والے کو پاگل کہہ کر ٹال دیا جاتا۔اگر وہ پیر فی الواقعہ پاگل ہے تو پھر تو بہت زیادہ خطر ناک ہے کیونکہ ایسا اقدام عموماً پاگل ہی کیا کرتے ہیں۔اسی طرح ایک جگہ پر کہا گیا کہ ڈپٹی احمدی ہے اسے مار دو۔اسی طرح میرے متعلق بھی کہا گیا کہ اسے مار دیا جائے۔مجسٹریٹ علاقہ اس جلسہ میں موجود تھا۔اُس نے اپنی رپورٹ میں اس امر کا ذکر کیا لیکن پولیس کی رپورٹ میں اس کا ذکر نہیں تھا۔جب پولیس کو ڈی سی نے اس طرف توجہ دلائی تو یہ کہہ دیا گیا کہ جس شخص نے یہ بات کہی ہے وہ پاگل ہے حالانکہ کھلے بندوں احمدیوں کے قتل کی تحریک کی گئی اور ایک آدمی کھڑا ہوا اور اُس نے کہا میں یہ کام کروں گا لیکن جب سپر نٹنڈنٹ پولیس سے اس کا ذکر کیا گیا تو اُس نے کہہ دیا کہ وہ پاگل تھا گویا یہ کام بڑے بڑے عقل مند کیا کرتے ہیں۔پھر ہم پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں حالانکہ اگر کوئی جماعت ایسی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں گداز ہے اور آپ کے نام کو دنیا میں عزت کے ساتھ قائم کرنے والی ہے تو وہ صرف ہماری ہی جماعت ہے۔جب ہمارے سلسلہ کی بنیاد ہی اسی امر پر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نور