انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 166

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۶۶ متفرق امور دو۔پھر جو ہو گا دیکھا جائے گا۔خواہ وہ تمہارے گھر کے افراد کو مار دیں یا سب گھروں پر حملہ کر کے ان کے بسنے والوں کو قتل کر دیں۔بہر حال یہ تحریک ہوئی اور کئی شکلوں میں ہوئی ہے۔بعض دفعہ گورنمنٹ کو توجہ دلاتے ہیں کہ احمدیوں کو اقلیت قرار دے دیا جائے اور انہیں مسلمانوں سے الگ سمجھا جائے۔ان کا یہ توجہ دلانا بالکل ویسا ہی ہے جیسے ایک مشہور واقعہ ہے کہ کوئی ظالم خاوند تھا وہ ہمیشہ مال دار عورتوں سے شادی کر کے اُن کی دولت پر قبضہ کر لیتا اور اس کے بعد کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر انہیں طلاق دے دیتا۔ایک دفعہ اس نے ایک عورت سے شادی کی وہ عورت نہایت ہوشیار تھی۔اسے پتہ لگا کہ اس کا خاوند ظالم ہے اور کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر مال و دولت پر قبضہ کرنے کے بعد وہ اُسے طلاق دے دے گا۔اس نے بڑی عمدگی سے کام کیا اور خاوند کو اعتراض کا کوئی موقع نہ ملا۔جب اُس نے دیکھا کہ یہ عورت تو الگ ہوتی نظر نہیں آتی بلکہ ہو سکتا ہے کہ میں مر جاؤں اور یہ میرے مال و دولت پر قبضہ کر لے تو اُسے طلاق دینے کا کوئی بہانہ سوچنے لگا۔ایک دن اُس نے اپنی بیوی سے کہا میں باورچی خانہ میں بیٹھ کر کھانا کھاؤں گا۔بیوی نے بہتیرا کہا کہ وہاں دھواں ہوگا اور تکلیف ہو گی مگر وہ نہ مانا اور اپنی اس بات پر اصرار کرتا رہا۔چنانچہ وہ باورچی خانہ میں بیٹھ گیا۔اس کی بیوی روٹیاں پکا رہی تھی وہ جھٹ غصہ سے اُٹھا اور اپنی بیوی کے سر پر جوتی مار کر کہنے لگا کمبخت ! روٹیاں تو تو ہاتھ سے پکاتی ہے تیری گہنیاں کیوں ہلتی ہیں؟ عورت بڑی ہوشیار تھی وہ کہنے لگی۔آپ غصہ میں آگئے ہیں اور غصہ میں کھانا ہضم نہیں ہوتا۔آپ مجھے مارنا ہی چاہتے ہیں تو کھانا کھا کر مار لیں۔چنانچہ بیوی نے کھانا اُس کے سامنے رکھ دیا۔جب وہ کھانا کھا رہا تھا تو اُس نے خاوند کی داڑھی پکڑ لی اور اُسے جوتا مار کر کہا۔کمبخت ! کھانا تو تو منہ سے کھاتا ہے تیری داڑھی کیوں ہلتی ہے؟ اسی طرح ہماری مخالفت کرنے والے کر رہے ہیں۔ایک جگہ انہوں نے ہمارے خلاف بہت شور مچایا کہ کیا اسلامی حکومت کو اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ احمدیوں کو ان کے تبلیغی کام سے روک دے اور بات صرف اتنی تھی کہ غیر احمدیوں کا کوئی جلسہ ہوا تھا اور ایک احمدی لڑکا باہر اشتہار بانٹ رہا تھا۔اتنی سی بات پر انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ کیا احمدیوں کو