انوارالعلوم (جلد 22) — Page 163
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۶۳ متفرق امور دفاتر بھی بنیں گے ، کارکنوں کی رہائش کے لئے مکان بھی بنیں گے پھر دوست خود بھی یہاں مکان بنائیں گے اس کے علاوہ میں نے مسجد امریکہ اور مسجد ہالینڈ کی بھی تحریک کی ہوئی ہے۔امریکہ میں ہمارا ڈیڑھ لاکھ روپیہ خرچ ہوا ہے۔اس مکان پر مسجد کی طرح مینارے تو ابھی نہیں بنے۔یہ جگہ ابھی تک مکان کی ہی صورت میں ہے لیکن یہ مکان نہایت اہم جگہ پر واقع ہے۔اس کے قریب غیر ملکی سفارت خانے ہیں۔پاکستان کا سفارت خانہ بھی قریب ہی ہے۔پھر پریذیڈنٹ کا گھر بھی اس جگہ کے قریب واقع ہے۔ایسی عمارت ڈیڑھ لاکھ روپیہ میں ملنی بہت سستا سودا ہے۔پھر یہ معمولی مکان نہیں۔دومنزلہ عمارت ہے۔بہر حال یہ مکان خرید لیا گیا ہے لیکن اس کے لئے چندہ صرف ۲۲ ہزار روپیہ آیا ہے۔باقی کچھ روپیہ اشاعت قرآن کی مد سے بطور قرض لیا گیا ہے اور کچھ دوسری مدات سے بطور قرض حاصل کیا گیا ہے۔اگر یہ روپیہ جمع نہ ہو ا تو آئندہ بہت سی مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔جب لندن میں مسجد بنانے کی تحریک ہوئی تو عورتوں نے ساٹھ ستر ہزار روپے جمع کر دئیے تھے۔اس وقت جماعت کی تعداد موجودہ تعداد سے دسواں حصہ تھی۔پھر عورت کی آمد مرد کی آمد سے آدھی تو ضرور سمجھنی چاہئے بلکہ اس سے بھی کم ہوتی ہے۔اب جبکہ ہماری تعداد اُس وقت کی تعداد سے دس گنا زیادہ ہے اور مسجد ایک اہم ملک اور پھر اس کے مرکز میں بنائی جارہی ہے تو ہم اس میں سستی کیوں کریں۔لوگ وہاں اپنے کاموں کے لئے آئیں گے تو ہم سے بھی شناسا ہو جائیں گے۔موجودہ وقت میں ہماری جماعت کا دو اڑھائی سو آدمی ایسا ہے جن کی آمد ایک ہزار روپیہ سے زائد ہے ان میں سے آدھے لوگ بھی اپنی ایک ایک ماہ کی آمد اس مسجد کے لئے دے دیں تو یہ رقم پوری ہو جائے گی لیکن جماعت نے اس کی اہمیت کو سمجھا نہیں۔پس میں ایک دفعہ پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں۔ہمیں سب ملکوں میں مسجدیں بنانی پڑیں گی۔اگر سب ممالک میں مساجد بن جائیں تو جو دُنیا ہمارے متعلق یہ کہتی ہے کہ ہم مسلمان نہیں ، کافر ہیں ہم اُسے بتا سکتے ہیں کہ کیا کافر ہی سب ملکوں میں مساجد بنا رہے ہیں۔پس مسجد ہماری تبلیغ کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔جن لوگوں کی آمد نہیں زیادہ ہیں وہ اس طرف توجہ کریں۔اگر ایک سال تکالیف اُٹھا