انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 157

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۵۷ متفرق امور اس سال پانی کی بھی دقت ہے۔کل تو روٹی بھی تیار نہیں ہو سکتی تھی اگر خدا تعالیٰ اپنے خاص فضل سے کوئی صورت پیدا نہ کرتا۔جماعت کی مخالفت آجکل زیادہ ہے۔واٹر ٹینکس water tank) کے لئے ہم جس محکمہ میں بھی گئے وہاں کوئی نہ کوئی احراری ٹائپ کا آدمی تھا جس نے اس میں رُکاوٹ پیدا کر دی۔اگر حالات یہی رہتے تو آج میرا مضمون یہ بھی ہوتا کہ ۱۳۰۰ سالوں تک مسلمانوں نے بغیر پانی اور بغیر لنگر کے حج کیا ہے۔اگر ہم بغیر پانی اور بغیر لنگر کے ایک جلسہ پر گزارہ کر لیں تو کون سی بڑی بات ہے لیکن چونکہ روٹی پک گئی اور پانی کا ایک حد تک انتظام ہو گیا اس لئے میں نے یہ مضمون بیان نہیں کیا۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہم جس محکمہ میں بھی گئے وہاں کوئی نہ کوئی احراری ٹائپ آدمی موجود تھا اور اُس نے ہمارے کام میں کوئی نہ کوئی روک پیدا کر دی۔جب چاروں طرف سے انکار ہو گیا اور جب آٹا گوندھنے کے لئے بھی لنگر خانہ میں پانی موجود نہیں تھا اُس وقت آدمی پھر لاہور بھیجے گئے وہاں جا کر معلوم ہوا کہ ملتان کی میونسپلٹی نے اپنی ضرورتوں کے لئے ایک ٹرک بنوایا ہے جس میں ۹۰۰ گیلن پانی کی گنجائش ہے۔وہ ٹرک ابھی بنا ہے اور ملتان جانے والا ہے۔ملتان میونسپلٹی کے پریذیڈنٹ کو فون کیا گیا کہ وہ جلسہ سالانہ کے موقع پر یہ ٹرک ہمیں دے دیں چنانچہ اُس نے اجازت دے دی اور وہ ٹرک یہاں پہنچ گیا اور ہماری تکلیف رفع ہو گئی۔مجھے خوشی ہوئی ہے کہ یہ خدمت ملتان نے کی ہے۔پنجاب میں اسلام کی پہلی مدد بھی ملتان سے ہوئی کہ اس علاقہ کے رہنے والوں نے اسلام کو پہلے قبول کیا اور ہمارے جلسہ میں بھی مدد کی توفیق ملتان کو ہی ملی۔اگر چہ پریذیڈنٹ ملتان میونسپلٹی نے گوٹرک ہمیں کرایہ پر دیا تھا لیکن جب کرایہ کی ضرورت نہ ہو اُس وقت کسی چیز کا کرایہ پر دے دینا بھی دینے والے کی شرافت کا ثبوت ہے۔بہر حال ابھی تک ہمارا انتظام ایسا نہیں کہ اسے مکمل کیا جا سکے یا جس کے ہوتے ہوئے ہر تکلیف رفع ہو سکے اور سردی بھی ایسی شدید پڑ رہی ہے کہ پارہ انجماد کے درجہ کے قریب پہنچا ہو ا ہے اس لئے دوستوں کو چاہئے کہ وہ اپنی صحت کا خیال رکھیں اور سردی