انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 83

انوار العلوم جلد ۲۲ ۸۳ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ہا روا پس کر دیا ہے اب دیکھو سونے میں کیا رکھا تھا ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا وطن چھوڑا، جائدادیں چھوڑیں ، مکان چھوڑے اور مشیت الہی کے مقابلہ میں ان کی کچھ بھی پرواہ نہ کی۔پھر آپ کی شان تو بڑی تھی صحابہ نے بھی اپنا سب کچھ خدا تعالیٰ کی خاطر قربان کر دیا لیکن سونے کے اس ہار کو دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صدمہ پہنچا اس لئے کہ یہ حضرت خدیجہ کا دیا ہوا ہار تھا۔سونے کا سوال نہیں اگر وہ مٹی کا بھی بنا ہوا ہوتا تو آپ کو تکلیف ہوتی کیونکہ اس کا جذبات کے ساتھ تعلق تھا۔پس امتہ الحی نے فوت ہونا تھا اور وہ فوت ہو گئیں میں پہلے مرجاتا یا وہ پہلے مرگئیں اس میں کوئی فرق نہیں یہ خدا تعالیٰ کا قانون تھا جو پورا ہو الیکن یہ جذبات کی چیز ہے کہ جب ہم دونوں باتیں کیا کرتے تھے تو میں اُن سے وعدہ کیا کرتا تھا کہ میں تمہیں تمہارے ابا کا وطن دکھاؤں گا لیکن جب وہ وقت آیا کہ میں نے بھیرہ دیکھا تو وہ ہستی جس سے میں وعدہ کیا کرتا تھا کہ میں اُسے اُس کے ابا کا وطن دکھاؤں گا اس دنیا سے گزرچکی تھی۔جب کہ میں بتا چکا ہوں مجھے یہاں آنے کی دیرینہ خواہش تھی مقامی جماعت کے بعض دوست ڈرتے تھے کہ کہیں دوسرے لوگ شورش نہ کریں اور انہوں نے چاہا کہ میں بھیرہ نہ جاؤں لیکن میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ آخر یہاں کے لوگ میری وجہ سے شورش کیوں کریں گے۔آخر کوئی کسی کے خلاف ہوتا ہے تو وہ اس لئے کہ وہ اس کا کام بگاڑتا ہے میں نے ان کا کیا بگاڑا ہے کہ وہ میرے خلاف ہوں گے۔اگر کوئی شخص میرے یہاں آنے کی وجہ سے شورش کرے گا تو وہ غلط فہمی کی بناء پر ہو گی۔وہ اس خیال سے شورش کرے گا کہ میں ( نعوذ باللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ہوں مجھ کو تو یہ مخالفت بھی اچھی لگتی ہے کہ یہ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے ہے۔آخر دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہاں کسی سے میرا زمین کا جھگڑا ہے یا مکان کا جھگڑا ہے یا کسی عہدے کا جھگڑا ہے۔میں گورداسپور کا رہنے والا ہوں اور ہجرت کے بعد ضلع جھنگ میں مقیم ہوں۔اور جہاں تک جائداد کا سوال ہے یہاں کے کسی رہنے والے کو مجھ پر شکوہ نہیں