انوارالعلوم (جلد 22) — Page 66
انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۶ تربیتی کورس کے اختتام پر احمدی نوجوانوں سے خطاب کے مقرر ہو جانے سے بعض نے خیال کر لیا کہ اس طرح احمدیت قبول کرنے میں لوگ ہچکچاہٹ محسوس کریں گے۔لیکن اب کئی لوگ ایسے ہیں جو اپنی آمد کا تمیں چالیس فیصدی چندہ دیتے ہیں حالانکہ اِن میں سے بعض ایمان میں اتنے پختہ نہیں جتنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ ایمان میں پختہ تھے لیکن اُس زمانہ میں لوگ ایک پائی فی روپیہ فی سہ ماہی شرح چندہ مقرر ہونے سے گھبراتے تھے۔پس ابتداء میں ہمیشہ وقتیں پیش آتی ہیں لیکن جب کام چلے گا ، خدام میں اس کی اہمیت پیدا ہوتی چلی جائے گی۔بڑی بات یہ ہے کہ کورس میں شامل ہونے والوں کو چاہئے کہ وہ اپنی اپنی جگہ پر خدام کی تنظیم کریں۔میں سمجھتا ہوں کہ ابھی خدام کی دس فیصدی تنظیم ہوئی ہے نوے فیصدی تنظیم ابھی باقی ہے۔آپ کو چاہئے کہ اپنی اپنی جگہوں پر جا کر خدام کی تنظیم کریں۔اسی طرح اردگرد کے علاقہ میں پھر پھر کر مجالس میں تحریک کریں کہ اگلے سال اس کورس میں شامل ہونے کے لئے خدام زیادہ تعداد میں آئیں۔بعض جگہوں پر مشکلات بھی ہیں مثلاً کراچی کی جماعت کے اکثر خدام ملازم پیشہ ہیں اسی لئے انہیں چھٹیاں ملنی مشکل ہوں گی لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ سال میں دو تین خدام اس کورس میں شامل ہو جائیں اور وہ وہاں جا کر باقی خدام کو ٹریننگ دیں کیونکہ اس انتظام کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ جو خدام اس تربیتی کورس میں شامل ہوں وہ واپس جا کر دوسرے خدام کو ٹریننگ دیں۔یا درکھیں کہ اس کورس سے ہمارا یہ مقصد نہیں تھا کہ ہم تمیں چالیس خدام کوٹرینڈ کریں یا ہمیں صرف تمہیں چالیس خدام کی ضرورت ہے بلکہ ہمارا مقصد یہ تھا کہ جس خادم کو اس کے لئے بلایا جائے وہ آگے دوسروں کو سکھائے اور کوشش کرے کہ آئندہ سال زیادہ خدام اس کورس میں حصہ لیں۔آپ میں سے ہر ایک دو چار پانچ چھ اور خدام کو ٹریننگ دیں۔اسی طرح وہ خدام آگے اور خدام کو ٹریننگ دیں اس طرح پچاس خدام کو تربیت دینے کی وجہ سے ہزاروں تک یہ تربیت پہنچ جائے گی۔میں نے اساتذہ سے کہا تھا کہ اس کورس میں موٹی موٹی باتیں سکھائی جائیں،