انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 65

انوار العلوم جلد ۲۲ تربیتی کورس کے اختتام پر احمدی نوجوانوں سے خطاب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ تربیتی کورس کے اختتام پر احمدی نوجوانوں سے خطاب فرموده ۷/نومبر ۱۹۵۰ء بمقام ربوہ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔نام جو میں نے پڑھوائے تھے اُس کی ایک حکمت یہ بھی تھی کہ دیکھوں تربیت کا کس حد تک اثر ہوا ہے۔پچاس خدام میں سے ۱۲ ایسے تھے جو کھڑے ہونے سے پہلے اس کیلئے تیار نہیں تھے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن پر تربیتی کلاس کا کوئی اثر نہیں ہوا لیکن اکثریت ایسی تھی جس نے اپنا مقصد سمجھا تھا۔یعنی پچاس میں سے اڑتیں کا کھڑا ہونا ظاہر کرتا تھا کہ وہ انتظار میں تھے کہ آواز آئے اور وہ اُٹھ کھڑے ہوں لیکن بارہ ایسے تھے جو مُردوں کی طرح کھڑے ہوئے۔اُن کو دیکھ کر یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ کسی تربیتی کیمپ میں رہ چکے ہیں بلکہ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے وہ کسی مسجد کے ملاں کے شاگردوں میں سے ہیں۔ولوی محمد صدیق صاحب نے اپنی رپورٹ میں ذکر کیا ہے کہ اکثر مجالس سے نمائندگان نہیں آئے۔جہاں تک انسانی نفس کا تعلق ہے نئی بات لوگ آہستہ آہستہ اختیار کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کے لوگ آجکل کے لوگوں سے تقویٰ میں بہت بڑھے ہوئے تھے لیکن جب آپ نے یہ اعلان فرمایا کہ ہر احمدی ہر تین ماہ کے بعد ایک پائی فی روپیہ کے حساب سے چندہ دے تو بعض دوستوں نے یہ کہا کہ اس طرح تو احمدیت میں داخل ہونے میں مشکل پیدا ہو جائے گی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کئی لوگ ایسے بھی تھے جو ایک پائی فی روپیہ فی سہ ماہی سے کئی گنا زیادہ چندہ دیتے تھے مگر اس شرح