انوارالعلوم (جلد 22) — Page 622
انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۲۲ سیر روحانی (۶) بد عہدی بھی کی ہے؟ تو ابوسفیان نے کہا کہ اس نے آج تک کوئی بد عہدی نہیں کی۔جب اُس نے پوچھا کہ وہ تمہیں کن باتوں کی تعلیم دیتا ہے۔تو ابوسفیان نے کہا کہ ہمیں یہی کہتا ہے کہ ہم سچ بولا کریں ، خدائے واحد کی عبادت کیا کریں ، وفائے عہد سے کام لیں، امانت اور دیانت کا مادہ اپنے اندر پیدا کریں اور ہر قسم کے ناپاک اور گندے کاموں سے بچیں۔۱۳۸ غرض با وجود مخالفت کے اُسے ہر سوال کے جواب میں آپ کی طہارت اور پاکیزگی کا اقرار کرنا پڑا اور قیصر روما کے بھرے دربار میں اُسے آپ کے مناقب کا ترانہ گانا پڑا کیونکہ خدا نے کہا تھا کہ ہم تجھے مقام محمود عطا کرنے والے ہیں۔آج مکہ والے تجھے بیشک مدتم کہہ لیں ، بیشک ہر قسم کا جھوٹ بول کر تجھے بُرا بھلا کہتے پھریں مگر ہم یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ تیری تعریف قائم کی جائے اور زبانوں اور دلوں پر تیری حمد جاری کی جائے چنانچہ خدا تعالیٰ کی تقدیر ابوسفیان کو قیصر روما کے دربار میں کھینچ کر لے گئی اور شاہی دربار میں اُسے اقرار کرنا پڑا کہ مکہ کے لوگ جھوٹ بولتے ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقتاً تعریف کے قابل ہیں اور کوئی عیب اُن میں نہیں پایا جاتا۔موجودہ زمانہ میں پھر اللہ تعالیٰ نے اسی مقام محمود کی تجلیات کو اور زیادہ روشن اور نمایاں کرنے کے لئے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود مقامِ محمود کی تجلیات علیہ الصلوۃ والسلام کو اور آپ کے بعد مجھے پیدا کیا اور ہم سے اُس نے آپ کے حُسن کی وہ تعریف کروائی کہ آج اپنے تو الگ رہے بیگانے بھی آپ کی تعریف کر رہے ہیں اور یورپ اور امریکہ میں بھی ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور سلام بھیجتے ہیں مگر یہ تغیر کیوں ہوا؟ اسی لئے کہ اس روحانی در بار خاص کا بادشاہ جس انعام کا اعلان کرتا ہے وہ انعام چلتا چلا جاتا ہے اور کوئی انسان اس کو چھینے کی طاقت نہیں رکھتا۔جب اُس نے اپنے دربار میں یہ اعلان کیا کہ اے ہمارے گورنر جنرل ! ہم تجھے ایسے مقام پر پہنچانے والے ہیں کہ دنیا تیری تعریف کرنے پر مجبور ہو گی تو کون شخص تھا جو خدا تعالیٰ کے اس پروگرام میں حائل ہوسکتا۔اس نے محمدی انوار کی تجلیات کو روشن کرنا شروع کیا اور اُس کے حُسن کو اتنا بڑھایا کہ دنیا کی تمام