انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 38

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۸ اقرار کرو کہ تم ہمیشہ سچ بولو گے کام میں لگے رہتے ہیں ہمارے نوجوانوں کو بھی اس کی عادت ہونی چاہئے اور کم از کم دو تین دن تک انہیں ہر وقت کام میں مشغول رہنا چاہئے۔رستہ میں مجھے سینکڑوں ایسے خدام ملے ہیں جو اِدھر اُدھر کھڑے تھے یا پھر رہے تھے اس طرح وہ غرض پوری نہیں ہوتی جس کیلئے یہ اجتماع مقر ر کیا گیا ہے۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بعض دفعہ خدام سے عہد لینا پڑتا ہے لیکن ابھی تک میرے سامنے کوئی ایسا طریق نہیں لایا گیا کہ وہ عہد کیسے لیا جائے اس کیلئے ضروری ہے کہ کوئی نہ کوئی لفظ ایسا تجویز کیا جائے کہ جب عہد لیا جائے تو خدام اسے دُہرا سکیں۔دنیا کے تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد کے الفاظ میں خاص شان ہونی چاہئے۔عہد میں ہمیشہ ایسے الفاظ استعمال کئے جانے چاہئیں جن کو اونچی آواز میں بولا جا سکے۔مثلاً یورپ میں جب ایسا کیا جاتا ہے تو وہ اسے اے Ayd) کہتے ہیں لیں (Yes) نہیں کہتے۔کیونکہ لیس (Yes) پورے زور سے ادا نہیں ہوتی اور اے Aye) میں زور آجاتا ہے۔ہمارے ملک میں 'ہاں' کا لفظ ہے لیکن اس لفظ کا استعمال مہذب نہیں سمجھا جاتا۔مہذب لوگ اس کی جگہ جی کا لفظ استعمال کرنے لگ گئے ہیں۔لیکن جی اپنے اندر کوئی شان نہیں رکھتا بلکہ اس میں لجاجت والا رنگ پایا جاتا ہے۔عربی میں ایک لفظ ہے جس سے اے نکلا ہے اور وہ لفظ ای ہے ای کو ایسا زوردار سمجھا جاتا ہے کہ عرب کہتے ہیں۔ى وَاللهِ ہاں خدا تعالیٰ کی قسم۔عرب لوگ نَعَمُ بھی کہیں گے لیکن نَعَمْ کے بعد قسم کا لفظ لگا نا پسند نہیں کیا جاتا۔لیکن ای کے بعد مرجح ہے کہ قسم کا لفظ لگایا جائے۔جب کوئی عرب انی کہے گا تو عام حالات میں اس سے امید کی جائے گی کہ وہ اس کے بعد واللهِ کہے یعنی خدا کی قسم۔پس میں تجویز کرتا ہوں کہ جب کوئی عہد لیا جائے تو خدام بلند آواز سے کہیں ائی اور پھر عام آواز میں واللہ کہیں۔واللہ کا لفظ اونچی زبان میں کہنے کی ضرورت نہیں۔اب میں تم سے اسی سلسلہ میں ایک عہد لیتا ہوں۔میں نے قاعدہ بتا دیا ہے اس کے مطابق تم وہی الفاظ دُہراتے جاؤ۔یعنی تم زور دار الفاظ میں ایک دفعہ ای کہو گے پھر ذرا کم آواز میں واللہ کہو گے۔گویا اس کے یہ معنی ہوں گے کہ میں ایسا عہد کرتا ہوں خدا کی قسم۔