انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 39

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۹ اقرار کرو کہ تم ہمیشہ سچ بولو گے میں نے جیسا کہ کل بیان کیا تھا اسلام کی جان یا مذہب کی جان یا انسانیت کی جان بچ ہوتا ہے جو شخص سچ نہیں بولتا وہ قوم کو تباہ کرنے والا ہوتا ہے۔جب تک ہم سچائی کو قائم نہیں کریں گے ہم دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کی کوئی بڑی امید نہیں کر سکتے۔مثلا تم اپنی زندگی وقف کرتے ہو۔اب اگر تم سچ بولتے ہو تو دین کیلئے جان کی ضرورت پڑی تو تم اپنی جان دے دو گے۔یا مثلاً ہم کوئی کام تمہارتے سپر د کرتے ہیں۔اگر تم سچ بولتے ہو تو خواہ تمہاری جان بھی چلی جائے تم اُس کام کو پورا کر کے چھوڑو گے۔لیکن اگر تم جماعت میں داخل ہوتے ہو اور تم میں سچ بولنے کی عادت نہیں تو تم ہر کام میں کمزوری دکھاؤ گے ، تم ہر کام میں غداری کرو گے اور تم جماعت کے لئے کوئی مفید وجود نہیں بن سکو گے۔پس یہ پہلا کام ہے کہ جماعت میں سچ بولنے کی عادت پیدا کی جائے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب کبھی تم سے گواہی لی جائے تو تم سچی گواہی دو۔سچ بولنا ایسا اہم کام ہے کہ اس کے نتیجہ میں خواہ تمہارے بیوی بچوں کی جانیں بھی چلی جائیں تمہارے ماں باپ اور بہن بھائی ماخوذ ہو جائیں تب بھی تم ہمیشہ سچ بولو، اور ہمیشہ سچی گواہی دویلے پس ایک پروگرام میں خدام کے لئے اِس سال یہ تجویز کرتا ہوں کہ جب تم سے کوئی گواہی لی جائے یا کوئی عہد لیا جائے تو تم اس کیلئے کوئی عذر یا بہانہ نہیں بناؤ گے چاہے اس کے پورا کرنے میں تمہاری جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔اگر جماعت اس نقطہ پر مضبوطی سے قائم ہو جائے تو دوسری قوموں میں اس کی بہت بڑی عزت قائم ہو جائے گی۔پس تمہیں یہ عہد کر لینا چاہئے کہ خواہ کتنی رُسوائی اور ذلت تمہیں برداشت کرنی پڑے تم ہمیشہ سچ بولو گے مگر ایسا سچ جو شریعت کے مطابق ہو۔بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر وہ بتا دی جائیں تو انہیں سچ نہیں کہتے۔مثلاً ایک بچہ کو کوئی چور مل جاتا ہے اور اُس سے پوچھتا ہے بتاؤ زیورات والا صندوق کہاں ہے؟ اب اگر وہ اسے بتا دیتا ہے کہ زیورات والا صندوق فلاں جگہ ہے تو یہ سچ نہیں ہوگا۔شریعت نے صرف مجسٹریٹ کو یہ حق دیا ہے کہ وہ ہر بات پوچھ سکتا ہے لیکن یہ سچ نہیں کہ خواہ کوئی بات بھی ہو تم ٹھیک ٹھیک بتا دو۔سچ وہ ہے جس کا قرآن کریم یا قانون حکم دیتا ہے۔عدالت میں اگر کوئی ایسی بات پوچھی جاتی ہے جو تم بتانا