انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 559 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 559

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۵۹ سیر روحانی (۶) اے محمد رسول اللہ ! اگر تو دنیا میں نہ آیا ہوتا تو یہ سونے اور چاندیاں اور لو ہے اور پیتل اور زمر داور ہیرے اور دریا اور پہاڑ غرض کچھ بھی نہ ہوتا یہ سب کچھ تیری خاطر پیدا کئے گئے ہیں۔وہ شخص جس کی جوتیوں کی خاک ہیں یہ چیزیں بلکہ جس کی جوتیوں کی خاک سے ادنی ہیں اس کے متعلق مولوی یہ کہتے ہیں کہ وہ زیادہ لینے کے لئے لوگوں کو ڈھوئے دیتا پھرتا تھا کہ میں دس روپے کی چیز دیتا ہوں وہ مجھے پندرہ دے دے۔نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ یہ بھی اسی طرح ان کی غلطی ہے جس طرح کہ پہلی غلطیاں تھیں اور یہاں بھی وہی نادانی کام کر رہی ہے کہ ہر بُرے معنے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور ہر اچھے معنے اپنے عیسی کی طرف منسوب کئے جائیں۔لغت کے لحاظ سے وَلَا اب ہم دیکھتے ہیں کہ آیت کے صحیح معنے کیا ہیں؟ اس غرض کے لئے ہم پھر لغت کو تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ کے صحیح معنے دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ فن کبھی صلہ کے ساتھ آتا ہے اور کبھی بغیر صلہ کے۔جب یہ صلہ کے ساتھ آئے تو اس کا صلہ علی ہوتا ہے چنانچہ مَنَّ عَلَيْهِ کے معنے ہوتے ہیں اس پر احسان کیا یا اس پر احسان جتایا اور بغیر صلہ کے من آئے تو اس کے معنے ہوتے ہیں کسی کو روکنا یا کاٹنا ۵۵ اور اِسْتَكْثَرَ کے معنے ہوتے ہیں زیادہ لینا۔۵۶ے اس میں روپیہ کی شرط نہیں جو چیز بھی ہم زیادہ لیں اس کے معنے اِستِكْثَار کے ہو جائیں گے۔پہلے دو معنوں کے متعلق میں بتا چکا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں اور آپ کی شان کے بالکل خلاف ہیں اور پھر سیاق وسباق کے ساتھ بھی ان کا کوئی جوڑ نہیں۔ذکر ہو رہا ہے انذار کا اور کہا جا رہا ہے کپڑے دھو ، ریٹھے لا ، صابن خرید ، حمام میں جا اور پھر سُو دخوری نہ کر۔ان گندے معنوں کے ساتھ بھی اس کا کوئی جوڑ نہیں بنتا لیکن ہم جو معنے بتاتے ہیں وہ سارے کے سارے ان آیتوں پر چسپاں ہو جاتے ہیں۔