انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 558 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 558

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۵۸ سیر روحانی (۶) دیا کہ میں بادشاہ ہوں۔جب وہ آیا تو سپاہیوں نے اسے اندر بھجوا دیا۔وہاں بادشاہی جلال تھا اور تمام درباری ادب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔اس کی شکل پہچانی نہیں جاتی تھی کیونکہ جنگل میں وہ سادہ لباس میں گھوڑے پر اکیلا سوار تھا اُس جنگلی کو دیکھ کر بادشاہ کہنے لگا کس طرح آنا ہو !؟ اُس نے کہا حضور ! آپ کے لئے ایک نیا تحفہ لایا ہوں کہنے لگا کیا چیز ہے؟ اس نے کہا تریں اور کھیرے ہیں۔کہنے لگا کیا بے قیمت چیز ہے ، اس نے کہا حضور نئی چیز ہے کسی نے اب تک کھائی نہیں اُس نے پوچھا اچھا تو پھر تم مجھ سے کیا امید رکھتے ہو؟ کہنے لگا تین سو اشرفی۔اُس نے کہا کیا تم مجھے پاگل سمجھتے ہو کہ ان کھیروں اور تروں کے بدلہ میں تمہیں تین سو اشرفی دیدوں گا۔اُس نے کہا تین سو نہیں تو اڑھائی سو دے دیجئے۔کہنے لگا اڑھائی سو بھی کون دے سکتا ہے۔اس نے کہا اڑھائی سو نہیں تو دوسو دے دیجئے۔کہنے لگا دوسو بھی زیادہ ہے۔اس نے کہا تو پھر سو اشرفی لائیے۔وہ کہنے لگاسو بھی بہت زیادہ ہے غرض اسی طرح وہ قیمت گھٹاتا چلا گیا جب دس پر پہنچا تو بادشاہ نے کہا دس اشرفی بھی بہت زیادہ ہے۔اس پر وہ بے اختیار کہنے لگا وہ کم بخت منحوس جو مجھے راستہ میں ملا تھا جس طرح اُس نے کہا تھا ویسا ہی ہوا ہے اور یہ کہہ کر وہ کوٹا۔بادشاہ ہنس پڑا اور اس نے اسے واپس بلا یا اور کہا گھبراؤ نہیں اور پھر اس نے حکم دیا کہ جتنی رقمیں ہوئی ہیں وہ سب جمع کر کے اسے دیدی جائیں یعنی ۳۰۰ + ۲۵۰ ۲۰۰۶ + ۱۵۰+۱۰۰+۹۰ اس طرح کئی سو روپے بن گئے جو اُسے دے کر اس نے رخصت کیا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک یہ ڈھوئے اور ڈالی کا طریق ہو اکرتا تھا چونکہ یہ سود خوری سے کم ہے اس لئے وہ اس کے معنے یہ کرتے ہیں کہ اے محمد رسول اللہ ! تو ڈھوئے لے کر لوگوں کے پاس نہ جایا کراے محمد رسول اللہ ! تو ڈالیاں لے لیکر ڈپٹی کمشنر کے پاس نہ جایا کر۔لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ - خدا کا گورنر جنرل اور اُس کا جرنیل آیا ہے اس کو ڈھوئے اور ڈالیوں کی ضرورت ہی کیا ہے؟ خدا تو اس سے یہ کہتا ہے کہ ہم تجھے اپنے پاس سے رزق دینگے اور بے حساب دینگے خدا تو اسے یہ کہتا ہے کہ لَولاک لَمَا خَلَقْتُ الاَ فَلَاكَ ۵۳۔