انوارالعلوم (جلد 22) — Page 498
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۹۸ سیر روحانی (۶) وسیع ہال ہو ا کرتا تھا جو گویا خاص ملاقات کا کمرہ ہوتا تھا اس میں بادشاہ بیٹھتے تھے، شہزادے بیٹھتے تھے اور وہ وزراء، امراء جن سے امور مملکت کے متعلق مشورے لئے جاتے تھے بیٹھتے تھے عام لوگوں کو وہاں آنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔اسی طرح بادشاہ اگر کسی کو گورنر مقرر کرتے یا کمانڈر انچیف مقرر کرتے یا اور کسی بڑے عہدہ پر مقرر کرتے تو ان کو وہاں بلوایا جاتا تھا اور بادشاہ کی طرف سے وزراء اور امراء کے سامنے اعلان کیا جاتا تھا کہ ہم فلاں شخص کو گورنر مقرر کرتے ہیں یا کمانڈر انچیف مقرر کرتے ہیں یا جرنیل مقرر کرتے ہیں یا فلاں بڑے عہدہ پر مقرر کرتے ہیں۔یا اگر کوئی خادم قوم یا خادم ملک کوئی بڑی بھاری خدمت بجالاتا تو اُس کو بلایا جاتا اور اِن سب وزراء اور امراء کے سامنے اُس کا اعزاز و اکرام کیا جاتا اور کہا جاتا کہ اس کو یہ خلعت دی جاتی ہے یا اس کی عزت افزائی میں اسے یہ انعام دیا جاتا ہے۔یا اہم ملکی مسائل پیش ہوتے اور بادشاہ ضروری سمجھتا کہ وزراء سے مشورہ لینا چاہئے تو اس مجلس میں جو لوگ مقررہ اوقات پر جمع ہوتے تھے اُن کے سامنے ان امور کو پیش کیا جاتا اور درباری اپنی اپنی رائے اور مشورہ دیتے یا جس جس سے پوچھا جاتا وہ رائے دیتا اور اس کے بعد بادشاہ کی طرف سے ایک فیصلہ صادر ہو جاتا۔گویا دیوان خاص کے قیام کی چاراہم اغراض ہو ا کرتی تھیں۔اول بادشاہ کا اپنے وزراء کو اپنے تقرب میں جگہ دینا اور ان کا اعزاز کرنا یا مختلف مناصب پر اُن کا تقرر کرنا یا انہیں برطرف کرنا۔دوم بادشاہ کا ان سے خاص امور کے بارہ میں مشورہ لینا اور خاص امور کے بارہ میں مشورہ دینا جن سے وہ اپنے فرائض کو عمدگی سے ادا کر سکیں۔سوم اپنی مشکلات میں ان سے مدد لینا اور اُن کی مشکلات میں اُن کو مدد دینے کے وعدے کرنا۔چهارم ان کے اچھے کاموں پر انعام واکرام دینا اور بُرے کاموں پر سرزنش کرنا۔یہ وہ چارا غراض ہیں جن کے ماتحت ”دیوان خاص‘ قائم کئے جاتے ہیں۔