انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 497 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 497

انوار العلوم جلد ۲۲ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۴۹۷ سیر روحانی (۶) نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ سیر روحانی (۶) تقریر فرموده مورخه ۲۸ دسمبر ۱۹۵۱ء بر موقع جلسه سالانه ر بوه) عالم روحانی کا دیوان خاص تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:- میں نے گزشتہ سال اسلام کے دیوانِ عام کے متعلق تقریر کی تھی اور بتایا تھا کہ دتی کی سیر میں ہم نے دیوانِ عام دیکھے جو آج اُجڑے ہوئے نظر آتے تھے۔جہاں انگریزوں کے چپڑاسی تو بڑی شان سے پھرتے تھے اور مغلوں کی نسلیں چھپتی پھرتی اور نظریں بچاتی پھرتی تھیں اور میں نے بیان کیا تھا کہ قرآن کریم میں ایک دیوانِ عام کا ذکر آتا ہے جو کبھی غیر آباد نہیں ہوتا ، جو کبھی دشمن کے قبضہ میں نہیں جاتا اور جس کو دیکھ کر مؤمنوں کے دلوں میں کبھی بھی حسرت پیدا نہیں ہوتی۔آج میں اس مضمون کے تسلسل میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اسلام نے دیوانِ عام ہی نہیں بلکہ ایک دیوان خاص بھی پیش کیا ہے اور اسلام کے دیوانِ خاص کے مقابلہ میں ان بادشاہوں کے بنائے ہوئے دیوانِ خاص اتنی بھی حیثیت نہیں رکھتے جتنی ایک زندہ ہاتھی کے مقابلہ میں اُن مٹی کے بنے ہوئے ہاتھیوں کی حیثیت ہوتی ہے جنہیں کھلونوں کے طور پر خانہ بدوش عور تیں بیچتی پھرتی ہیں۔دیوان خاص کی اغراض دیوان خاص کیا چیز تھی ؟ دیوان خاص شاہی قلعوں میں ایک نہایت اعلیٰ درجہ کی عمارت یا