انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 493 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 493

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۹۳ چشمہ ہدایت موقع دیا جائے میں ضرور ملنا چاہتا ہوں۔جب وہ آئے تو میں نے کہا فرمائیے اس وقت کیوں آئے؟ کہنے لگے میں اس وقت جلسہ گاہ سے آ رہا ہوں۔ہمارے اور آپ کے درمیان اختلاف ہے، سب کچھ ہے لیکن خدا کی قسم! آج میرا دل گواہی دیتا ہے کہ یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں یہ نظارہ نظر آیا تھا اور یا آج یہ نظارہ نظر آیا ہے۔پس بیشک ظلم ہوتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ جذ بات صحیحہ ہمارے ساتھ ہیں۔دیکھو ہر شخص جانتا ہے کہ ایمان کے بغیر نجات نہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایمان اس کو کہتے ہیں جو غیر متزلزل ہو۔اور غیر متزلزل یقین ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ نقل صحیح اور عقل صحیح اور جذبات صحیحہ اس کے ساتھ نہ ہوں۔اور میں نے بتایا ہے کہ ہمارے سارے کے سارے مسائل میں نقل صحیح ہمارے ساتھ ہے ،عقل صحیح ہمارے ساتھ ہے اور جذبات صحیحہ ہمارے ساتھ ہیں اس لئے جہاں تک عقل کا سوال ہے کوئی احمدی متزلزل نہیں ہو سکتا۔لالچ میں آسکتا ہے ، ڈرسکتا ہے اور جہاں تک واقعات کا اور عقل کا سوال ہے دنیا کا کوئی انسان بھی ہم سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔بعض لوگ کانوں میں اُنگلیاں ڈال ڈال کر ہم سے بچنا چاہتے ہیں اسی لئے وہ کہتے ہیں کہ احمدیوں کی مجلسوں میں نہ جاؤ ان کے جلسوں کو نہ سنو، تقریریں ہوں تو شور مچاؤ۔قرآن میں بھی یہی لکھا ہے کہ مخالف کہتے ہیں کہ قرآن نہ سنو کہیں اس کی آواز تمہارے کان میں نہ پڑ جائے ' کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کسی جگہ بھی عقل داخل ہوئی تو ہم مر گئے ، کسی جگہ نقل داخل ہوئی تو ہم تباہ ہو گئے، کسی جگہ جذ بات صحیحہ داخل ہوئے تو ہم گئے۔اسی لئے وہ اپنے کانوں میں روئیاں ٹھونستے ہیں۔مگر تم وہ ہو جن کو ہم کہتے ہیں کہ ہر مجلس میں جاؤ اور کان کھول کر جاؤ تمہیں کوئی ڈر نہیں۔اور تمہارا مخالف تمہاری مجلس میں آنے سے پہلے اپنے کانوں میں رُوئی ڈالتا ہے تا کہ اُس کا ایمان بچ جائے مگر آخر کب تک وہ روئی ڈالے گا۔کسی دن اُس کی رُوئی گرے گی کسی دن تمہاری آواز اُس کے کان میں پڑے گی اور وہ متاثر ہو کر تمہارے ساتھ شامل ہو جائے گا۔وَاخِرُ دَعُونَا آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - (الفضل ۲۱ / مارچ ۱۹۶۲ء)