انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 490

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۹۰ چشمہ ہدایت کو کیوں یہ حق نہیں کہ وہ لوگوں کو اپنے مذہب میں شامل کر لیں۔فلپائن میں جہاں اب بھی پندرہ بیس ہزار مسلمان پڑا ہے عیسائیوں کو کیوں حق حاصل نہیں کہ وہ جبراً مسلمانوں کو عیسائی بنا لیں۔امریکہ کو کیوں حق حاصل نہیں کہ وہ جبراً اُن مسلمانوں کو جو اُس کے مُلک میں رہتے ہیں عیسائی بنالے۔روس کو کیوں حق حاصل نہیں کہ وہ جبر اسب کو عیسائی بنالے یا جبر اسب کو کمیونسٹ بنالے۔اگر تمہاراحق ہے اور تم دوسروں کو جبراً اپنے عقیدہ پر لا سکتے ہو تو ویسا ہی عقلاً دوسروں کو بھی حق حاصل ہے لیکن اِس حق کو جاری کر کے دنیا میں کبھی امن قائم رہ سکتا ہے ، اس حق کو جاری کر کے کیا تم اپنے بیٹے کو بھی کہہ سکتے ہو کہ یہ مسئلہ ٹھیک ہے؟ بیوی کو بھی کہہ سکتے ہو کہ یہ مسئلہ ٹھیک ہے کہ عیسائیوں کا حق ہے کہ وہ مسلمانوں کو زبر دستی عیسائی بنا لیں؟ مسلمانوں کا حق ہے کہ وہ عیسائیوں کو زبر دستی مسلمان بنالیں ؟ احمدیوں کی حکومت ہو تو اس کا حق ہے کہ وہ غیر احمدیوں کو احمدی بنالے؟ ایران والوں کا حق ہے کہ وہ سب حنفیوں کو ز بر دستی شیعہ بنالیں؟ اگر ایسا ہو تو کیا سارا پاکستان بڑی خوشی سے کہے گا کہ الْحَمدُ للهِ جزاک الله کیا اچھا کام کیا ہے؟ غرض یہ ایسی عقل کے خلاف بات ہے کہ کوئی عقل بھی اس کو تسلیم نہیں کرتی۔جذبات صحیحہ بھی اس کے خلاف ہیں کیونکہ ہر ایسے شخص کو جو دیانت داری سے اختلاف رکھتا ہے سزا دینا انسانی فطرت پسند نہیں کرتی۔واقعات کو بھی دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ کرتے تھے کیونکہ آپ کا عقیدہ تھا۔مکہ والے آپ کو جھوٹا سمجھتے تھے مگر وہ کہتے تھے کہ ہم ڈنڈے سے سیدھا کریں گے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دُکھ دیتے تھے۔ایک دفعہ خانہ کعبہ سے باہر ایک پتھر کی چٹان پر صفا میں آپ بیٹھے ہوئے تھے اور کچھ سوچ رہے تھے۔چہرہ پر آپ نے ہاتھ رکھا ہوا تھا اور سہارا لے کر سوچ رہے تھے کہ ابو جہل نے دیکھا اور اُس نے آپ کو گالیاں دینی شروع کر دیں۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُسی طرح بیٹھے رہے۔پھر اس کمبخت نے زور سے آپ کو تھپڑ مارا کہ ہمارے