انوارالعلوم (جلد 22) — Page 445
چشمہ ہدایت انوار العلوم جلد ۲۲۔۴۴۵ حضور نے تقریر کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا :- اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَالْعَصْرِن اِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي چشمہ ہدایت حسرة إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ خُشْرِكْ وتواصوا بالصبر لاے یعنی دنیا پر نظر کر کے اور تاریخ عالم پر غور کر کے تمہیں دکھائی دے سکتا ہے کہ ہر طرف گھانا ہی گھانا اور تباہی ہی تباہی اور جھگڑے ہی جھگڑے پائے جاتے ہیں۔صرف ایک ہی چیز ہے جو ان تمام بداثرات سے پاک نظر آسکتی ہے اور وہ مومن انسان ہے جو عمل صالح کرتا ہے اور تواصوا بِالْحَقِّ کرتا ہے اور تواصوا بالصبر کرتا ہے۔گویا یہ چار چیزیں ایسی ہیں جو ساری دنیا کے فسادات کا علاج ہیں۔جن میں سے پہلی اور سب سے اہم چیز ایمان ہے۔یہ سیدھی بات ہے کہ اگر ایمان کامل کسی کو نصیب ہو جائے تو پھر دنیا کی مشکلات اور دنیا کی تکالیف اس کی نگاہ میں بالکل بے حقیقت ہو جاتی ہیں۔احادیث میں ایک واقعہ بیان ہوا ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ ایمان کی کیا کیفیت ہوتی ہے اور جب وہ کسی شخص کو بچے طور پر حاصل ہو جائے تو اُس کی نگاہ میں دنیا کتنی بے حقیقت ہو جاتی ہے۔احد کی جنگ میں ایک واقعہ ایسا پیش آیا جس کے نتیجہ میں لوگوں میں یہ مشہور ہو گیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔تمام مدینہ میں گہرام مچ گیا اور عورتیں اور بچے بلبلاتے اور چیختے ہوئے میدانِ جنگ کی طرف دوڑ پڑے۔شہر سے نکلنے والی عورتوں میں ایک ستر سالہ بڑھیا بھی تھی اس کی بینائی بہت کمزور ہو چکی تھی اور اسے نہایت قریب سے ہی کوئی چیز نظر آتی تھی دُور کی چیز کو وہ نہیں دیکھ سکتی تھی زیادہ تر دوسرے کو آواز سے پہچانتی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُس وقت میدانِ جنگ سے بخیریت واپس تشریف لا رہے تھے اور آپ کی خاص طور پر حفاظت کرنے کے لئے ایک انصاری صحابی آپ کے ساتھ ساتھ چلے آرہے تھے اور وہ اس فخر میں آپ کے اونٹ کی نکیل پکڑے ہوئے تھے کہ ہم خدا کے رسول کو میدانِ جنگ سے زندہ سلامت لے آئے ہیں۔ان کے دوسرے بھائی اسی جنگ میں شہید ہو چکے تھے۔جب مدینہ سے عورتوں اور بچوں کا ایک