انوارالعلوم (جلد 22) — Page 433
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۳۳ چشمہ ہدایت زندگی کا موجب ہوتا ہے۔اور اب تو دیکھ لو جو نیا اضافی فلسفہ نکلا ہے اور آئن سٹائن نے نکالا ہے اس میں اُس نے اصول ہی یہ رکھا ہے کہ ایک خاص حد تک تیز رفتار میں موت سے انسان بچ جاتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ ہلاکت اور تباہی اس تیزی سے نیچے نیچے ہے۔جب کوئی چیز سورج کی روشنی کے برابر رفتار میں تیز ہو جائے گی وہ موت سے بچ جائے گی۔تو تیز رفتار انسان کو ہلاکت سے بچاتی ہے۔کھڑے رہنے کی خواہش کرنا یا آہستہ چلنے کی خواہش کرنا قوم کو تباہ کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ ضرور نئی نئی مشکلات لاتا ہے تا کہ لوگوں کے اندر بیداری پیدا ہو۔اگر اللہ تعالیٰ نئی نئی مشکلات نہ لائے تو آہستہ آہستہ لوگ ا شست ہوتے چلے جائیں۔قرآن کی طرف رغبت کم ہو جائے ، دین کی طرف رغبت کم ہو جائے ، قربانیوں کی طرف رغبت کم ہو جائے اور پھر وہ ایک قسم کے جانور بن کر رہ جائیں انسان نہ رہیں۔اور اب تو ایک اور دلچسپی کی چیز ہمارے لئے پیدا ہو گئی ہے جو ہمارے لئے خدا نے پیدا کی ہے کیونکہ اس کے فوائد اگر اسلام کو پہنچیں گے تو اسلام ہمارا ہے ہم اس کے دعویدار ہیں اور وہ پاکستان ہے۔ہمارے لئے بھی کچھ نہ کچھ نئی مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں اور پاکستان کے لئے بھی اور باقی عالم اسلام کے لئے بھی۔کمزور انسان ان باتوں کو دیکھ کر گھبراتا ہے وہ کہتا ہے یہ مصیبت آ گئی وہ مصیبت آ گئی لیکن عقل مند انسان سمجھتا ہے کہ ان مصیبتوں کے بغیر میری قوت عملیہ کبھی بھی اپنے پورے زور میں نہیں آئے گی اور بغیر اس کے کہ قوت عملیہ اپنے پورے زور پر آئے مسلمان ترقی نہیں کر سکتے۔ہماری ذاتی مشکلات میں سے سب سے پہلے احرار کی مخالفت ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ جہاں تک اِن کی مخالفت کا سوال ہے اس کے دو پہلو ہیں۔ایک پہلو تو اس کا یہ ہے کہ لوگوں کے اندر مخالفت ہوتی ہے اور وہ مخالفت کی وجہ سے ہماری باتوں کے سُننے کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔اُن کے دلوں میں غصہ پیدا ہوتا ہے یہ چیز تو ہمارے لئے بُری ہوتی ہے۔مگر ایک صورت یہ بھی ہو ا کرتی ہے کہ جب کوئی شخص مخالفت کی باتیں سنتا ہے تو وہ پھر کریدتا ہے کہ اچھا! یہ ایسے گندے لوگ ہیں۔ذرا میں بھی تو جا کے دیکھوں۔اور جب وہ دیکھتا ہے تو حیران ہو جاتا ہے کہ جو باتیں مجھے اُنہوں نے بتائی تھیں وہ تو بالکل اور تھیں