انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 402

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۰۲ رسول کریم ﷺ کا بلند کردار اور اعلیٰ صفات قرآن مجید سے۔۔پس فطرتِ صحیحہ سے کام لینے والا شاندار کام کر جاتا ہے اور جب اس فطرت کے ساتھ نو رمل جائے تو پھر نُورٌ عَلی نُورِ ہو جاتا ہے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق آتا ہے کہ آپ کو ایسی فطرت عطا ہوئی تھی کہ اگر آگ نہ بھی ہوتی تب بھی وہ جل اُٹھتی۔اس کے معنے یہ ہیں کہ نور نے آ کر فطرت صحیحہ کو نُورٌ عَلى نُور کر دیا تھا لیکن فطرت صحیحہ آپ کو پہلے سے عطا کی جاچکی تھی۔خدا تعالیٰ کا پہلا کلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتنے ڈراؤنے اور حیران کن حالات میں نازل ہوتا ہے۔ایک شخص شخص تنہائی میں شہر سے کئی میل دور عبادت کر رہا تھا کہ ایک فرشتہ آتا ہے اور جن حالات میں وہ فرشتہ آتا ہے وہ کوئی کم ہیبت ناک نہیں۔وہ حیران ہوتا ہے کہ یہ کیسا وجود ہے کہ جس طرح چاہتا ہے آتا ہے۔جنگل اور پہاڑیاں بھی اسے روک نہیں سکتیں۔اس رُعب کی موجودگی میں اور اس ہیبت ناک نظارہ کی موجودگی میں بھی خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ اگر کوئی بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی جائے گی تو آپ کہیں گے ، میں یہ کام کیوں کروں پہلے میری تسلی کرو۔اس لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا اقرا باسمِ رَتِكَ الَّذِي خَلَقَ تُو اپنے اس رب کے نام سے پڑھ جس نے تجھے پیدا کیا ہے یعنی ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دے دی۔رتك “ کہہ کر بتایا کہ تیرے پیدا کرنے والے کا تجھ پر حق ہے تو اس حق کو پورا کرنے کے لئے یہ کام کر۔مگر ابھی یہ سوال رہ جاتا تھا کہ کیا جن کی طرف پیغام بھیجا جا رہا ہے اُن پر بھی پیغام بھجوانے والے کا کوئی حق ہے؟ سوالّذي خلق کہہ کر بتایا کہ وہ تیرا رب ہی نہیں سب مخلوق کو اس نے پیدا کیا ہے۔پس اس کا حق ہے کہ ان سے بھی اپنی فرمانبرداری کا مطالبہ کرے۔پس تجھے کسی ایسے کام کے لئے نہیں بھجوایا جاتا جس کا تجھے حق نہیں بلکہ تجھے بھجوانے والے کا اُن پر بھی حق ہے۔اس آیت میں خلق کا لفظ استعمال کیا گیا ہے خلق کی حد بندی نہیں کی گئی اس سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت خلق وسیع ہے اور اس کی مخلوقات کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔گو یا خلق قائم مقام ہے خَلَقَ كُلَّ الْمَخْلُوقَاتِ کا۔گویا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ ارشادفرمایا ہے کہ کو میرا پیغام پہنچانے کے لئے تیار ہو جا اس لئے کہ میں پیغام دینے والا تیرا پیدا کرنے 66