انوارالعلوم (جلد 22) — Page 342
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۴۲ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلو کی اجازت دی جائے۔مگر میں نے ہمیشہ اس کی مخالفت کی لیکن آج میں ہی زنانہ کالج کا افتتاح کر رہا ہوں۔یہ تیسری قسم کی چیز ہے نہ میں زمانہ کے ساتھ بدلا نہ زمانہ میرے ساتھ بدلا بلکہ خدا تعالیٰ نے زمانہ میں ایسی خوشگوار تبدیلی پیدا کر دی کہ اب تعلیم کو اسلامی طریق کے ماتحت ہم کالج میں رائج کر سکتے ہیں۔یہ کہ اس تعلیم کی آئندہ کیا تفصیلات ہوں گی اس کو جانے دو لیکن یہ کتنا خوش گوار احساس ہے کہ پاکستان بننے کے بعد یونیورسٹی کے مضامین میں ایک مضمون اسلامیات کا بھی رکھا گیا ہے جس میں اسلامی تاریخ پر خاص طور پر زور دیا جائے گا۔پس ہم زمانہ کے ساتھ نہیں بدلے۔زمانہ بھی ہمارے ساتھ نہیں بدلا کیونکہ جو زور ہمارے نزدیک اسلامی تعلیم پر ہونا چاہئے وہ ابھی نہیں ہے لیکن خدا تعالیٰ نے زمانہ کو سمو دیا ہے اور اسے کچھ ہمارے مطابق کر دیا ہے اور کچھ ابھی ہمارے مطابق نہیں۔پس ان بدلے ہوئے حالات کے مطابق جبکہ ہم سہولت کے ساتھ کالج میں بھی دینیات کی تعلیم دے سکتے ہیں میں نے فیصلہ کیا کہ دینیات کلاسز کو اُڑا دیا جائے اور اسی کالج میں لڑکیوں کو زائد دینی تعلیم دی جائے تا کہ وہ کالج کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی لحاظ سے بھی اعلیٰ درجہ کی معلومات حاصل کر لیں اور اسلام پر ان کی نظر وسیع ہو جائے۔عیسائی حکومت جو تعلیم میں پہلے دخل دیا کرتی تھی وہ اب باقی نہیں رہی۔پس میں نے فیصلہ کیا کہ اب ہمیں کالج قائم کر دینا چاہئے تا کہ ہماری لڑکیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے پاکستان میں جو اعلی تعلیم یافتہ عورتیں ہیں اُن کی برابری کرسکیں اور ایک مقام پر ان کے ساتھ بیٹھ سکیں۔گو ہونا تو یہ چاہئے کہ اس تعلیم کو حاصل کرنے کے بعد تمہاری دماغی کیفیت اور تمہاری قلبی کیفیت اور تمہاری ذہانت دوسروں سے بہت بالا اور بلند ہو اور جب بھی تم اُن کے پاس بیٹھو وہ محسوس کریں کہ تمارا علم اور ہے اور اُن کا علم اور تمہارا علم آسمانی ہے اور اُن کا زمینی۔اور اگر تم قرآن کریم کو سمجھنے کی کوشش کرو اور اس پر غور کرنے کی عادت ڈالو تو یہ کوئی بڑی بات نہیں۔تم انٹرنس پاس ہو لیکن میں انٹرنس میں فیل ہوا تھا بلکہ واقعہ تو یہ ہے کہ میں مڈل پاس بھی نہیں کیونکہ میں مڈل میں بھی فیل ہو ا تھا۔درحقیقت قانون کے مطابق میری تعلیم پرائمری تک ختم ہو جانی چاہئے تھی کیونکہ جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے