انوارالعلوم (جلد 22) — Page 9
انوار العلوم جلد ۲۲ ۹ عورتیں آئندہ نسلوں کو دیندار بناسکتی ہیں ہوتا ہے ، سنگدل ہوتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے نام کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔پس اصل طریق یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے جائے اور اُس کے سامنے اپنی مشکلات پیش کرے۔دیکھو اس میں مرد و عورت کا یکساں حق تسلیم کیا گیا ہے یہ نہیں کہا گیا کہ مردوں کی دُعائنی جاتی ہے لیکن عورتوں کی نہیں بلکہ فرماتا ہے اے مرد اور اے عورتو! تم میرے نام کو اپنی ڈھال بناؤ اور اپنی ضرورتوں کے وقت مجھے اپنی مدد کے لئے بلاؤ۔إن الله كَانَ عَلَيْكُمْ رقیب فرماتا ہے۔دنیا میں بہت سے جھگڑے رقابتوں پر چلتے ہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ محبت کا سب سے گہرا تعلق میاں بیوی کا ہوتا ہے ادھر مرد کی ساری زندگی گزر جاتی ہے عورتوں اور بچوں کی پرورش میں اور اُدھر عورت کی ساری زندگی گزر جاتی ہے مرد کو آرام پہنچانے اور اُس کے کھانے پینے کا خیال رکھنے میں۔مگر با وجود اس کے وہ ایک دوسرے کے رقیب ہوتے ہیں۔ذرا بات ہو تو عورت کہے گی مرد ایسے ہوتے ہیں اور ذرا عورت سے کوئی اختلاف ہو تو مرد کہے گا کہ عورتیں ایسی ہوتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مثال کے طور پر بیان فرمایا کہ مرد عورت کے لئے ساری عمر قربانی کرتا رہتا ہے ، ساری عمر اس کی ضروریات کو پورا کرتا رہتا ہے مگر کسی دن اُس کی مرضی کے خلاف بات ہو جائے تو وہ کہے گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی کوئی خیر نہیں دیکھی جب بھی تُو نے سلوک کیا بُراہی کیا۔۵ے مردوں میں بھی ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں کئی مرد بھی ایسے ہوتے ہیں جو عورت کی تمام قربانیوں کے بعد کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے تو تجھ میں کبھی کوئی خوبی دیکھی ہی نہیں۔آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ ہے کہ عورت اور مرد میں مقابلہ کے جذبات پیدا کئے گئے ہیں۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے ہمیں یہ نظارہ نظر آتا ہے۔چونکہ قرآن کریم کی یہ تعلیم کہ مرد اور عورت میں یکساں قو تیں رکھی گئی ہیں ابھی دنیا میں نازل نہیں ہوئی تھی اِس لئے عورت مرد کے خلاف کھڑی ہو جاتی اور مرد عورت کے خلاف کھڑا ہو جاتا اِن دونوں میں خوب مقابلہ ہوتا۔بیشک جہاں تک محبت کا تعلق ہے ہزاروں لاکھوں گھرانے محبت و پیار سے رہتے تھے اور وہ ایک دوسرے کے لئے قربانی بھی کرتے تھے لیکن جہاں تک زبان کا تعلق تھا، جہاں تک تقریروں کا تعلق تھا ، جہاں تک