انوارالعلوم (جلد 22) — Page 323
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۲۳ اصلاح اور تربیت کے لئے اپنا نیک نمونہ پیش ساتھ لے کر نکلا۔انسان کے اندر روح ہونی چاہئے۔اُسے پُر امید ہونا چاہئے اور اچھا نمونہ دکھانا چاہئے۔لوگ خود بخود تمہاری بات مانیں گے سنیں گے اور اس پر عمل کریں گے۔لوگ قربانی کرنے سے ڈرتے ہیں۔تم قربانی کر کے ان کا ڈراتار دو مگر مرکز کو واقف کرنے کے لئے مفصل اطلاع دو۔مثلاً کسی جگہ دس خدام ہیں اور ان میں سے آٹھ خدام نما زنہیں پڑھتے تو تم کہو کہ صرف دو آدمی نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں آتے ہیں۔اس سے مرکز خود نتیجہ نکال لے گا کہ باقی آٹھ خدام نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں نہیں آئے اور مرکز انہیں ہدایت دے گا لیکن تم خدا تعالیٰ اور بنی نوع انسان کے سامنے کسی دوسرے پر الزام نہیں لگاؤ گے۔تم لکھو تو مرکز کو تحریر کرو کہ فلاں شخص چندہ نہیں دیتا یہ مت لکھو کہ کوئی چندہ نہیں دیتا یہ چیز تکبر اور بے ایمانی پر دلالت کرتی ہے۔تم یہ لکھو کہ فلاں نے چندہ نہیں دیا میں اس کے پاس فلاں وقت گیا لیکن معلوم ہوتا ہے وہ مالی مشکلات میں ہے میں پھر کسی وقت جاؤں گا اور اُسے اِس طرف توجہ دلاؤں گا۔پس تم امید کبھی ختم نہ کرو نہ ذہن سے نہ زبان سے اور نہ قلم سے۔کیونکہ جس وقت تم امید ختم کرو گے اُس وقت واقعہ میں ان کے اندر اور اپنے اندر تم موت پیدا کر لو گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَنْ قَالَ هَلَكَ الْقَوْمُ فَهُوَا هُلَكَهُمُ سے جو شخص کہتا ہے کہ لوگ مر گئے وہ قوم کا دشمن ہے اور وہ ایسا کہہ کر اپنی قوم کی موت کا باعث بنتا ہے پس تم کبھی بھی ایسی بات زبان پر مت لاؤ۔جب کوئی شخص ایسی بات زبان پر لاتا ہے اور کہتا ہے کہ لوگ مر گئے تو تم سمجھ لو کہ وہ غلطی پر ہے تم اسے اس بات سے روکو اور بجائے اس کے کہ تم اس کی تصدیق کرو کہ میرا بھی یہی تجربہ ہے تم یہ کہو کہ بعض مشکلات ہوتی ہیں اور کمزوریاں بھی پائی جاتی ہیں ہمارا یہ کام نہیں کہ ہم نا امید ہو جائیں۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہم انہیں اُٹھا ئیں اور سمجھا ئیں اگر کوئی گونگا ہے تو اسے اشارے سے سکھائیں جاہل ہے تو اسے علم سکھائیں دوسرے پر فتویٰ نہیں لگا نہ چاہئے بلکہ خود کام کرنا چاہئے۔جب کسی کو بُرا کہہ دیا جاتا ہے تو وہ سمجھ لیتا ہے کہ چلو میں بُرا ہوں تو