انوارالعلوم (جلد 22) — Page 238
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۳۸ سیر روحانی (۵) کہ یہ پہلی تاروں کے بعد دوسری تا ر ہے۔قرآن کریم یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں دنیا میں پہلی الہامی کتاب ہوں جیسے ویدوں کا دعوی ہے بلکہ وہ یہ کہتا ہے کہ میں ان کتابوں کے پیچھے آیا ہوں اور پھر اوپر کی چوٹی پر ہوں تا کہ کوئی اعتراض نہ کرے کہ قرآن کریم پہلی کتابوں سے اُتر کر دوسرے درجہ کی کتاب ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ میں ہوں تو دوسری کتاب مگر پہلی کتابوں سے زیادہ شاندار ہوں۔اگر ایک ڈاکٹر اپنے فن میں بڑا مشہور ہو اور اُس کے بعد کوئی دوسرا ڈاکٹر آ کر اپنے آپ کو اُس سے بڑھا کر دکھا دے تو وہ چھوٹا سمجھا جاتا ہے یا بڑا سمجھا جاتا ہے؟ اگر ایک بیرسٹر بڑی کامیاب پریکٹس کرتا ہو اور اس کے بعد ایک دوسرا بیرسٹر آ جائے جو اپنے کام میں اتنا شہر ہ حاصل کر لے کہ تمام لوگ پہلے بیرسٹر کو چھوڑ دیں اور اُس کے پاس آجائیں تو کیا کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ دوسرا بیرسٹر ہے اس کو پہلے بیرسٹر پر کیا فضیلت حاصل ہے؟ پہلے کی موجودگی میں اپنے درجہ کو قائم کر لینا اور اپنی دھاک بٹھا لینا ایک فخر کی بات ہوتی ہے ورنہ جہاں عالم نہیں ہوتے وہاں بعض دفعہ جاہل بھی آکر عالم بن جاتے ہیں اور وہ جو کچھ اوٹ پٹانگ کہہ دیں لوگ سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ کہنے لگ جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ بڑے عالم ہیں۔اسی قسم کے مسخرے کا ایک لطیفہ ہے۔لوگ اُس سے مسئلے پوچھنے آتے تو ایک لطیفہ کبھی وہ عقل کی بات کہ دیتا اور کبھی بے وقوفی کی۔ایک دفعہ عیسائی آئے اور انہوں نے کہا بتاؤ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معراج پر گئے تھے تو رکس سیڑھی سے گئے تھے؟ اُس نے کہا حضرت عیسی علیہ السلام جب آسمان پر گئے تھے تو لوگ سیڑھی اُٹھانی بُھول گئے تھے اُس پر چڑھ کر چلے گئے تھے۔یہ تو معقول بات کہہ دی چاہے مذاق کی تھی ، مگر اس کے بعد ایک دوسرا شخص آیا اور اس نے کہا کہ جب چاند نکلتا ہے تو پہلے وہ نہایت باریک ہوتا ہے اور پھر ذرا موٹا ہوتا ہے پھر اور بڑا ہوتا ہے یہاں تک کہ ہوتے ہوتے پورا چاند بن جاتا ہے اور پھر تھوڑے دنوں کے بعد ہی غائب ہو جاتا ہے وہ چاند جاتا کہاں ہے؟ کہنے لگا اس کو کاٹ کر ستارے بنا لئے جاتے ہیں چونکہ قوم میں کوئی اور عالم نہیں تھا اس لئے لوگ اُسی کو بڑا عالم سمجھتے تھے۔