انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxii of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page xxii

۱۷ ,, - سورۃ العصر کی تلاوت سے فرمایا اور انسان کے خسارے میں نہ رہنے کی جو چار خصوصیات اس سورۃ میں بیان ہوئی ہیں اُن میں سے امنوا کے تحت ایمان کی نہایت لطیف تفسیر بیان فرمائی کہ ایمان کا لفظ امن سے نکلا ہے اور ایمان کے معنی ہیں امن دینا۔ایمان کے معنی خالی عقیدہ کے مان لینے کے نہیں۔ایمان تو اس چیز کو کہیں گے کہ کسی عقیدہ کو ایسا مان لینا جو امن دے دے۔اگر اس کے ساتھ امن مل گیا تو وہ ایمان ہے۔ایمان کے حوالے سے آنحضور ﷺ کی روایات حضور نے بیان فرمائیں کہ ایمان کے معنی بیان کرتے ہوئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایمان اس عقیدہ کا نام ہے جو غیر متزلزل ہوا اور متزلزل کرنے والی چیزوں کو گنواتے ہوئے حضور نے فرمایا۔۱۔عقیدہ و نقل ۲ عقل۔جذبات صحیحہ یعنی اگر فطرت کوئی بات کہتی ہو تو پہاڑوں میں رہنے والا ان پڑھ بھی کہہ دے گا یہ بات درست ہے۔پس حصولِ ایمان کے جو مواقع خدا تعالیٰ نے میسر کر رکھے ہیں۔ان کو بروئے کار لائیں اور اپنے عقیدوں کو نمبر وار لکھ کر نقل ، عقل اور جذبات صحیحہ سے ان کی تائید چا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے احمدیت کے جو اصول بیان فرمائے اُن میں سے دس موٹے موٹے اصول حضور نے بیان فرما کر ان کو بطور عقیدہ کے گنا اور عقل اور جذبات صحیحہ سے ان کے تائیدی دلائل دیئے نیز ان دس اصولوں کا غیر از جماعت کی تعلیمات سے موازنہ بھی کیا۔جن میں وفات مسیح، اجرائے نبوت ، الہام کا دروازہ قیامت تک کھلنے اور قرآن کریم کے ناسخ منسوخ وغیرہ ہونے کا ذکر فرمایا۔(۲۱) سیر روحانی (۶) سیر روحانی کا ایک مختصر تعارف اسی جلد کے تعارف میں ہو چکا ہے۔جس میں ایک خواب کی بناء پر ۱۹۳۸ء سے شروع کرنے والے ایک اہم مضمون کا تہ کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے دیوانِ عام کے مقابلہ پر روحانی دیوانِ عام کو پیش کیا گیا تھا۔اب اس لیکچر میں جو آپ نے ۲۸ / دسمبر ۱۹۵۱ء کو جلسہ سالانہ کے آخری دن دیا