انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 187

انوار العلوم جلد ۲۲ رو I^2 مسلم لیگ کو ہی حاصل ہے تو مرزائی وکیل کو باؤنڈری کمیشن کے سامنے یہ کہنے کا کیا حق تھا کہ ” قادیان بین الا قوامی یونٹ بن چکا ہے اور اسے حق ہے کہ ہندوستان میں رہے یا پاکستان میں اور یہ سب کچھ اُس وقت کیا گیا جب سر ظفر اللہ مسلم لیگ کے نمائندہ کی حیثیت سے موجود تھے اور جب تمام مسلمان انہیں اپنا نمائندہ تسلیم کرتے تھے۔اُنہوں نے بشیر احمد کو جُدا پیش ہونے سے کیوں نہ روکا اور کیوں قادیانیوں کی جدا پیشی کے خلاف احتجاج نہ کیا۔اصل بات ،اصل مسئله، اصل ملزم ، اصل مجرم قادیانی جماعت ہے کہ جس نے جد ا نمائندہ اور الگ محضر پیش کیا اور مسلم لیگ کو نمائندہ تسلیم کرنے سے عملاً انکار کر دیا۔حکومت نے سر ظفر اللہ کے متعلق تحقیقات تو فرمائی اور اس کی تردید بھی کی تاکہ کسی طرح قادیانی جماعت کا چہرہ ڈھل سکے کیا حکومت پاکستان اس بات کی تحقیقات کو بھی تیار ہے کہ قادیانی جماعت نے وزارتی کمیشن سے کیا مطالبہ کیا تھا اور باؤنڈری کمیشن کے سامنے متفرق امور کیا بحث کی تھی ؟‘A اس بیان میں مندرجہ ذیل دعوے کئے گئے ہیں اول حکومت نے اس بیان سے عوام کو جہلِ مرتب میں ڈالنے اور غلط فہمی میں مبتلا کرنے کی جو ناکام کوشش کی ہے وہ انتہائی مذموم ہے۔اس بیان کا مقصد محض قادیانی جماعت پر عائد شدہ الزامات کو سر ظفر اللہ پر منطبق کر کے عوام کے ذہنوں سے اُس اثر اور دلوں سے اُن تاثرات کو دور کرنا ہے جو کہ مرزائی جماعت کے متعلق ان کے دلوں میں موجود ہیں۔آخر میں لکھا ہے ”برسبیل تذکرہ تقریر کی روانی اور خطابت کے جوش میں سر ظفر اللہ کا نام بھی آتا رہا لیکن اصل مبحث قادیانی جماعت تھی نہ کہ سر ظفر اللہ کی ذات میں نے اصل مضمون پڑھ دیا ہے اس میں جماعت کا کہیں ذکر نہیں صرف چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا ذکر ہے۔اب میں یہ بتاتا ہوں کہ اس بیان میں جتنی