انوارالعلوم (جلد 22) — Page 106
انوار العلوم جلد ۲۲ ١٠٦ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر سامنے تم کیا جواب دو گے؟ اگر تم نے احمدیت کا لٹریچر پڑھا تھا اور پھر تم سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے میں غلطی ہو جاتی تو تم کہہ سکتے تھے خدایا! ہم نے اُن کے عقائد کو بغور پڑھا تو تھا لیکن ہم نے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ یہ جھوٹے ہیں۔خدا تعالیٰ کہے گا اچھا تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے اور یہ بات قابل معافی ہے لیکن ایک شخص اگر یہ کہے کہ میرے پاس ایک شخص آیا تھا اور اُس نے کہا تھا کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں لیکن میں نے اُسے پرے دھکیل دیا اور کہا تم جھوٹ بولتے ہو تو خدا تعالیٰ کہے گا تم نے میری ہتک کی۔ایک شخص نے تمہارے سامنے یہ کہا کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں اور خدا تعالیٰ نے مجھے یوں کہا ہے لیکن تم نے اس کی بات کو نہ سُنا اور اُسے رڈ کر دیا۔ایک شخص اگر ایسی بات کہتا ہے اور تم سمجھتے ہو کہ یہ محض افتراء ہے تو تم اسے سمجھا دو کہ میاں ! یہ بات درست نہیں لیکن اس کی بات تو سُن لو۔کیونکہ اگر تم اس کی بات سنتے ہی نہیں تو خدا تعالیٰ کے سامنے کیا جواب دو گے کہ اسے ہم نے کیوں رڈ کر دیا تھا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وعظ فرمایا کرتے تھے تو مکہ والوں نے لوگوں کو یہ سکھا دیا تھا کہ جب یہ وعظ کرے تو تم وہاں سے چلے جاؤ یا کانوں میں انگلیاں ڈال لو اور اس کی بات نہ سنو۔۱۳ سال تک آپ نے تبلیغ کی اور مصائب اور تکالیف کا مقابلہ کیا۔ایک دفعہ حج کے موقع پر جب لوگ کثرت سے مکہ میں جمع ہو گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاں کچھ آدمیوں کو کھڑا دیکھتے انہیں تبلیغ کرنے لگ جاتے۔بعض لوگ آپ کی بات سُنتے اور حیرت کا اظہار کر کے علیحدہ ہو جاتے اور بعض لوگ باتیں سُن رہے ہوتے تو مکہ والے اُن کو ہٹا دیتے اور بعض لوگ جو مکہ والوں سے آپ کی باتیں سُن چکے ہوتے وہ جنسی اُڑا کر آپ سے جدا ہو جاتے۔اسی دوران میں آپ کی نظر مدینہ کے سات افراد پر پڑی۔مکہ والے ارد گرد بھاگتے پھرتے تھے اور جس طرح ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ احمدیوں کی چائے شراب سے بدتر ہے وہ بھی لوگوں کو آپ کے خلاف بہکاتے تھے اور آپ کی باتیں سننے سے منع کرتے تھے۔سب لوگوں نے آپ کو رڈ کر دیا لیکن جب آپ مدینہ والوں کے پاس گئے تو انہوں نے آپ کی باتیں سننے پر آمادگی کا اظہار کیا۔اُنہوں