انوارالعلوم (جلد 22) — Page 67
انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۷ تربیتی کورس کے اختتام پر احمدی نوجوانوں سے خطاب پیچیدگیوں میں نہ پڑا جائے اس لئے بطور امتحان میں ایک دو باتیں پوچھتا ہوں۔انڈرٹرینینگ ( زیر تربیت ) خدام سب کھڑے ہو جائیں۔جو سوال میں کروں گا اُس کا جواب نہیں دینا بلکہ صرف ہاتھ کھڑا کرنا ہے جس سے معلوم ہو کہ تمہیں جواب آتا ہے اور میں جس سے چاہوں گا جواب پوچھ لوں گا۔مثلاً میں ایک فقرہ بولتا ہوں ، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ غلط ہے اور یہ خیال کرتے ہیں کہ آپ اس کی اصلاح کرلیں گے تو ہاتھ کھڑا کریں۔اس میں مولوی فاضل یا مدرسہ احمد یہ کے فارغ التحصیل خدام میرے مخاطب نہیں۔مثلاً میں یہ فقرہ بولتا ہوں إِنَّ اللهَ اَمَرَ الْمُؤْمِنُونَ اَنْ يُصَلُّونَ۔بولو یہ صحیح ہے یا غلط؟ (اس پر متعدد خدام نے ہاتھ کھڑے کئے اور حضور نے ایک خادم سے دریافت فرمایا کہ اس میں کیا غلطی ہے؟ اُنہوں نے دو غلطیوں کی تصحیح کی۔یعنی انہوں نے بتایا کہ اللہ“ اسمِ انَّ ہے اس لئے اس پر بجائے کسرہ کے فتح آئے گی کیونکہ ”ان “ اپنے ما بعد کو فتح دیتا ہے اور الْمُؤْمِنُونَ» مفعول بہ ہونے کی وجہ سے منسوب ہوگا۔یعنی الْمُؤْمِنِینَ پڑھا جائے گا۔آخری غلطی کی وہ تصحیح نہ کر سکے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے دوسرے خدام سے دریافت فرمایا کہ بتائیں کیا اور بھی کوئی غلطی ہے یا نہیں؟ مگر کوئی خادم جواب نہ دے سکا۔تو حضور نے فرمایا کہ اس فقرہ میں يُصَلُّونَ نہیں چاہئے بلکہ صرف يُصَلُّوا چاہئے۔دوسرا سوال حضور نے یہ کیا کہ:۔فاعِل کے آخر میں جو حرکت آتی ہے وہ کیا ہے؟ جو خدام اس سوال کا جواب بتا سکتے ہیں وہ ہاتھ کھڑا کریں۔“ ( اس پر متعدد خدام نے ہاتھ کھڑے کئے۔حضور کے دریافت کرنے پر ایک خادم نے بتایا کہ فاعل کے آخر میں رفع آتا ہے۔اس کے بعد حضور نے فرمایا : - ) آپ لوگوں نے جو کچھ پڑھا ہے میں امید کرتا ہوں کہ وہ لکھا بھی ہوگا۔“ (اس کے بعد حضور نے اساتذہ کرام سے سوال کیا کہ وہ جو کچھ پڑھایا کرتے تھے آیا وہ لکھوایا بھی کرتے تھے یا نہیں ؟ اور خدام اپنی جگہوں پر واپس جا کر اِن اسباق کو یاد کرنا چاہیں تو وہ کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ اس پر حضور کو بتایا گیا کہ سوائے ان پڑھ خدام کے جو لکھنا نہیں جانتے باقی خدام نے اسباق نوٹ کر لئے ہیں اور واپس جا کر وہ اگر یاد کرنا چاہیں