انوارالعلوم (جلد 22) — Page 68
انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۸ تو ایسا کر سکتے ہیں۔اس کے بعد حضور نے فرمایا:۔) تربیتی کورس کے اختتام پر احمدی نوجوانوں سے خطاب ر پورٹ میں ایک بات یہ بھی کہی گئی ہے کہ افسوس ہے کہ کورس پورا نہیں ہوسکا کیونکہ جو خدام کورس میں شامل ہوئے اُن میں سے بعض کی علمی قابلیت اپنے ساتھیوں کی نسبت کی بہت کم تھی۔میں نے شروع میں ہی یہ ہدایت کی تھی کہ جو خدام تعلیم یافتہ نہیں ہیں اُن کو کی الگ تو نہیں پڑھانا چاہئے لیکن اس کا یہ اثر بھی نہیں پڑنا چاہئے کہ کورس خراب ہو جائے کیونکہ اگر یہ غلطی کی جائے تو نا فرض شناسی کی ایسی عادت پڑ جائے گی کہ اس کا روکنا مشکل ہو گا۔ہر طالب علم کے اندر یہ احساس ہونا چاہئے کہ اُستاد اپنے فرض کو ادا کر رہا ہے اور یہ اُسی صورت میں ہو سکتا ہے جب اُستاد اپنے پہلے فرض یعنی کورس کو پورا کرے۔میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ یہ غلطی سرزد نہیں ہوگی پڑھانے کے لئے بیشک آسان الفاظ استعمال کر لو لیکن کورس پورا کر دینا چاہئے۔میں نے مولوی سیف الرحمن صاحب کو جن کے سپرد عربی کی ابتدائی تعلیم تھی یہ ہدایت کی تھی کہ صرف ونحو کی لمبی باتوں میں نہ پڑو ،صرف ایسی موٹی موٹی باتیں بتا دو جن سے خدام کے اندر قرآن وحدیث پڑھنے کیلئے دلیری پیدا ہو جائے اور اس طرح اگر ایک گھنٹہ روزانہ بھی پڑھائی کی جاتی تو اس قدر عربی چھ سات دن میں پڑھائی جاسکتی تھی۔یعنی عنوان بتا دیے جاتے تا کہ کوئی شخص عربی لفظ بول کر انہیں ڈرانہ سکے۔بہر حال آئندہ یہ احتیاط ہونی چاہئے کہ کورس پورا ہو جائے۔اگر کورس پورا نہیں ہوگا تو نہ تو طالب علم اپنے مقصد کو حاصل کر سکیں گے اور نہ استادوں کے متعلق وہ اچھا امپریشن (IMPRESSION) لے کر جائیں گے، یہ تو صاف بات ہے کہ اگر ایک ڈاکٹر اپنے شاگرد کو آدھی ڈاکٹڑی پڑھا دے تو وہ لوگوں کو مارنے والا بنے گا جلانے والا نہیں بنے گا۔اسی طرح وہ کورس جو مقرر کیا گیا ہے اگر پورا نہ ہو تو لازماً اس کا اچھا اثر نہیں پڑسکتا۔بڑی بھاری چیز جو تمہاری آنکھوں کے سامنے رہنی چاہئے وہ یہ ہے کہ ہم نے احمدیت کے ذریعہ سے اس عہد کو پورا کرنا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ سے کیا۔ہمارا فرض تھا کہ ہم یہ عہد آپ کے ذہن نشین کرائیں اور اساتذہ کا فرض تھا کہ ہمارا