انوارالعلوم (جلد 22) — Page 57
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۷ مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع۔۔۔میں بعض اہم ہدایات اور ہلاک بھی ہوگئی۔مسلمانوں کا یہ نقصان ایسا خطر ناک تھا کہ مدینہ تک اس سے ہل گیا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ والوں کو جمع کیا اور فرمایا اب مدینہ اور ایران کے درمیان ! کوئی روک باقی نہیں۔مدینہ بالکل نگا ہے اور ممکن ہے کہ دشمن چند دنوں تک یہاں پہنچ جائے اس لئے میں خود کمانڈر بن کر جانا چاہتا ہوں۔باقی لوگوں نے تو اس تجویز کو پسند کیا مگر حضرت علی نے کہا کہ اگر خدانخواستہ آپ کام آگئے تو مسلمان تنتر بتر ہو جائیں گے اور ان کا شیرازہ بالکل منتشر ہو جائے گا اس لئے کسی اور کو بھیجنا چاہئے آپ خود تشریف نہ لے جائیں۔اس پر حضرت عمر نے حضرت سعد کو جو شام میں رومیوں سے جنگ میں مصروف تھے لکھا کہ تم جتنا لشکر بھیج سکتے ہو بھیج دو کیونکہ اس وقت مدینہ بالکل نگا ہو چکا ہے اور اگر دشمن کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو وہ مدینہ پر قابض ہو جائے گا کے یہ خطر ناک نقصان جو مسلمانوں کو پہنچا محض تیرنا نہ جانے کا نتیجہ تھا۔پس تیرنا نہایت ضروری اور اہم چیز ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں عورتوں کو بھی تیرنا سکھانا چاہئے۔قادیان میں ہم کبھی نہر پر جاتے تو اپنی عورتوں اور لڑکیوں کو بھی ساتھ لے جاتے اور اُنہیں تیرنا سکھاتے تھے۔لوگ اعتراض کرتے تھے مگر میں نے تو اُسوقت اپنی عورتوں اور لڑکیوں کو تیرنا سکھا دیا تھا۔اب بھی ربوہ میں تالاب بننے چاہئیں اور لڑکوں اور لڑکیوں کو تیرنا سکھانا چاہئے۔تیرنا انسانی زندگی کا ایک ضروری حصہ ہے اگر جہاز میں انسان سوار ہو اور جہاز ڈوبنے لگے تو اسے تیر نے کا فن اتنا تو آنا چاہئے کہ وہ دس بیس منٹ یا دو چار گھنٹے پانی میں تیر سکے تا کہ اگر اُس کو کوئی مدد پہنچ سکتی ہو تو اس عرصہ میں اسے پہنچ جائے۔یہ تو نہ ہو کہ ادھر پانی میں گرے اور اُدھر ڈوب جائے۔میں تمام خدام سے کہتا ہوں کہ ان میں سے جو تیرنا جانتے ہوں وہ کھڑے ہو جائیں (اس پر ستر فیصدی خدام کھڑے ہوئے حضور نے فرمایا ) کوشش کرو کہ یہ ستر فیصدی سو فیصدی بن جائیں۔گو اس تعداد کو دیکھ کر یہ پتہ نہیں لگتا کہ یہ ستر فیصدی کتنا تیرنا جانتے ہیں ممکن ہے پانچ پانچ ہاتھ تیر کے ہی یہ ستر فیصدی ختم ہو جائیں۔تیرنے کی طاقت دوسری