انوارالعلوم (جلد 22) — Page 652
انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۵۲ اتحاد المسلمین عرش پر پہنچا دیتا ہے اور اس کے درمیان اور خدا تعالیٰ کے درمیان کوئی واسطہ باقی نہیں رہتا اور دوسری طرف جس طرح یونانی جب لڑتے ہیں تو وہ آپس میں ایک کو دوسرے کے ساتھ باندھ دیتے ہیں تا اگر وہ مریں تو اکٹھے مریں۔اسی طرح اسلام بھی ایک انسان کو دوسرے انسان کے ساتھ باندھ دیتا ہے۔پس حقیقت یہی ہے کہ اتحاد موجودہ حالات اور افراد سے اتحاد کا نام ہے۔اتحاد اس بات کا نام ہے کہ موجودہ حالات اورافراد سے کام لیا جائے اور ترقی کے معنے یہ ہیں کہ موجودہ حالات اور افراد میں اختلاف پیدا کیا جائے۔جب تک تجربہ اور تھیوری سے اختلاف نہیں کیا جاتا اس وقت تک ترقی نہیں ہو سکتی۔غرض انفرادیت کے بغیر ترقی مشکل ہے اور اتحاد کے بغیر امن قائم رکھنا مشکل ہے۔قرآن کریم نے ان دونوں کو تسلیم کیا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَاطِيْعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّبِرِينَ اے مسلمانو ! تم آپس میں اختلاف نہ کرو۔اگر تم آپس میں اختلاف کرو گے تو کمزور ہو جاؤ گے اور دُشمن سے شکست کھا جاؤ گے۔تم ہمیشہ اکٹھے رہنا اور ایک دوسرے کے مددگار رہنا ؤ اضبوڈا اور چونکہ اکٹھے رہنے میں تمہیں کئی مشکلات پیش آئیں گی اس لئے تمہیں صبر سے کام لینا ہو گا۔جب تم اجتماعیت کی طرف آؤ گے تو کئی جھگڑے پیدا ہوں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی شکوہ پیدا ہو جایا کرتا تھا۔ایک دفعہ آپ مالِ غنیمت تقسیم فرما رہے تھے ایک شخص نے کہا۔اس تقسیم میں انصاف سے کام نہیں لیا جار ہا۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اے شخص اگر میں انصاف نہیں کروں گا تو اور کون کرے گا ؟ حضرت عمرؓ بھی وہاں موجود تھے۔آپ نے تلوار نکال لی اور عرض کیا یا رَسُول اللہ ! آپ اجازت دیں تو میں اس کی گردن کاٹ دوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جانے دو۔اس شخص نے بے شک غلطی کی ہے لیکن اگر اس کی گردن کاٹ دی گئی تو لوگ کہیں گے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کر دیتا الے پس اگر اُس زمانہ کے لوگ بھی شکوہ کر دیتے تھے اور اختلاف کا اظہار کر دیتے تھے تو پاکستان اور شام اور عراق اور اُردن کے لوگ کیوں نہیں کر سکتے ؟ غلطیاں ہو جاتی ہے۔