انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 645 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 645

انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۴۵ اتحاد المسلمین کو کامیابی کا رستہ دکھاتا ہے جو اختلاف کرتے ہیں گویا یہ بات اتنی اچھی ہے کہ خدا تعالیٰ ایسا کرنے والے کو کامیابی بخشتا ہے۔اس لئے نہیں کہ اس نے اتحاد کر لیا بلکہ اس لئے کہ اس نے اختلاف کیا۔پھر فرمایا مِنَ الْحَقِّ اس نے حق کی خاطر اختلاف کیا۔پھر اپنی مرضی سے اختلاف نہیں بیاذ نہ خدا کے حکم کے مطابق اس نے اختلاف کیا ہے۔گویا اللہ تعالیٰ نے اختلاف کے باوجود ایک شخص کو عزت اور رتبہ دیا ہے لیکن دوسرا شخص ویسا ہی کام کر رہا ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ اسے عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے اس لئے کہ وہ حق کی خاطر اختلاف نہیں کر رہا ہوتا بلکہ باطل کی خاطر اختلاف کر رہا ہوتا ہے۔کفار کی طرف سے بھی یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ہمیں آپس میں متحد رہنا چاہئے لیکن قرآن کریم نے فرمایا ہے یہ اتحاد اچھا نہیں۔کفا ر اعتراض کرتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر اختلاف پیدا کر دیا ہے۔ہم سب اپنے آباؤ اجداد کے مذہب پر چل رہے تھے آپ نے ایک علیحدہ مذہب پیش کر کے ہمیں اختلاف کی دعوت دی ہے گویا کفار اتحاد کا واسطہ دیتے تھے لیکن خدا تعالیٰ اختلاف کو جائز قرار دیتا ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے: وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا ما انزل الله قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا الفَيْنَا عَلَيهِ آبَاءَنَا ، أَو لَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ ل یعنی جب انہیں کہا جاتا ہے کہ یہ پرانی چیزیں ہیں تم انہیں ترک کر دو اور جو خدا تعالیٰ نے نازل کیا ہے اسے مان لو تو وہ کہتے ہیں یہ نہیں ہو سکتا ہم اپنے آباؤ اجداد کے مذہب پر چلیں گے کیونکہ اس میں اتحاد پایا جاتا ہے تمہاری خاطر ہم اس مذہب کو کیسے چھوڑ دیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے او لو كان اباؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُون یہ کیا بودی دلیل ہے کہ ہم اپنے آبا ؤ اجداد کے مذہب پر چلیں گے۔تمہاری بات مان کر ہم ان سے اختلاف نہیں کریں گے لیکن اگر وہ بے عقل بھی تھے تب بھی یہ لوگ ان کے پیچھے چلیں گے۔اگر وہ بے علم تھے اور انہیں ہدایت نہیں ملی تھی تب بھی یہ لوگ ان کے پیچھے چلیں گے اتحاد تو ان چیزوں میں ہوتا ہے جن کے ساتھ علم ہو ، ہدایت ہو، عقل ہو، اگر ان کے ساتھ علم نہیں، ہدایت نہیں، عقل نہیں تو اتحاد کیسا۔تمہارا ان کے ساتھ رہنا تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا