انوارالعلوم (جلد 22) — Page 642
انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۴۲ اتحاد المسلمین ایک بزرگ کا قصہ مشہور ہے کہ وہ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو سارنگی بجا رہا تھا۔آپ نے اس کی سارنگی لی اور اُسے توڑ دیا۔وہ بادشاہ کا درباری تھا۔اس نے بادشاہ کے پاس شکایت کی کہ فلاں بزرگ نے میری سارنگی تو ڑ دی ہے اور اس طرح اُنہوں نے میری ہتک کی ہے۔بادشاہ نے اس بزرگ کو دربار میں بلایا۔جب وہ دربار میں آئے تو بادشاہ خود سارنگی بجانے لگا وہ بزرگ بیٹھ گئے اور بادشاہ کی طرف دیکھتے رہے اور وہ سارنگی بجاتا رہا۔تھوڑی دیر کے بعد بادشاہ اس بزرگ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کیا تم فلاں دن فلاں جگہ سے گزرے تھے ؟ اُنہوں نے کہا ہاں۔پھر کہا کیا تم نے فلاں درباری کی سارنگی تو ڑ دی تھی ؟ انہوں نے کہا ہاں۔بادشاہ نے کہا تم نے وہ سارنگی کیوں توڑی تھی؟ اس بزرگ نے کہا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر تو کوئی بُری بات دیکھو اور تم میں طاقت ہو اور تمہیں اختیار حاصل ہو تو اسے ہاتھ سے دُور کر دو چنانچہ میں نے اسے سارنگی بجاتے دیکھا تو مجھے یہ بات بری لگی میں سمجھتا تھا کہ اگر میں سارنگی توڑ دوں تو یہ مجھے کچھ نہیں کہے گا اس لئے میں نے سارنگی تو ڑ دی۔بادشاہ نے کہا پھر تم نے میری سارنگی کیوں نہیں توڑی ؟ اس بزرگ نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر تمہیں اختیار حاصل نہ ہو تو تم زبان سے منع کرو۔بادشاہ نے کہا آپ نے تو زبان سے بھی بُر انہیں منایا۔اُنہوں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر تم زبان سے بھی بُرا نہ منا سکو تو دل میں ہی بُر اما نو اور خدا کی قسم جب سے میں دربار میں آیا ہوں میں اسے بُرا منا رہا ہوں کے پس یہ بھی ایک اختلاف ہے جو قائم رہا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے ہیں کہ میرا اختلاف قائم رہنا چاہئے۔قرآن کریم بھی اختلاف کو تسلیم کرتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے ومن ايته خَلْقُ السموت والأَرْضِ وَاخْتِلافُ السِنَتِكُمْ وَالوَانِكُمْ ، اِنّ في ذلكَ لأيتِ لِلعلمين ٢٥ فرمایا! دیکھو خدا تعالیٰ کس کس رنگ میں اپنے جلوہ کو ظاہر کرتا ہے۔اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔اب کیا یہ ایک چیز کا نام ہیں۔آسمانوں کو دیکھ لو وہاں تمہیں کچھ سیارے نظر آئیں گے، کچھ ستارے ہوں گے۔پھر ان میں کوئی اپنے محور کے گرد گھوم رہا ہو گا اور b